ڈی جے ہلی تشدد کے گرفتار شدگان کی رہائی کی کوششیں تیز یو اے پی اے کے اجتماعی استعمال کو چیلنج کرنے کے لئے ہائی کور ٹ اور سپریم کورٹ سے رجوع ہونے کی تیاری

RushdaInfotech January 7th 2021 urdu-news-paper
 ڈی جے ہلی تشدد کے گرفتار شدگان کی رہائی کی کوششیں تیز  یو اے پی اے کے اجتماعی استعمال کو چیلنج کرنے کے لئے ہائی کور ٹ اور سپریم کورٹ سے رجوع ہونے کی تیاری

بنگلورو۔6جنوری(سالار نیوز)شہر کے دیورجیون ہلی اور کاڈگنڈنا ہلی علاقہ میں 11 اگست 2020کو ہوئے تشدد کے سلسلے میں گرفتار نوجوانوں کی رہائی کے سلسلہ میں اب تک کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی ہے۔ اس ضمن میں سکیولر ایڈوکیٹس فرنٹ کی ٹیم اور کانگریس پارٹی کی طرف سے اس کے لئے قائم ٹیم کی طرف سے منگل کے شب امیر شریعت کرناٹک مولانا صغیر احمد رشادی کے ساتھ ایک جائزہ میٹنگ کا اہتمام کیا گیا۔ اس اجلاس میں سابق وزیر اور رکن اسمبلی ضمیر احمد خان، سابق وزیر نصیر احمد،سکیولر ایڈوکیٹس فرنٹ کے وکلاء اور دیگرذمہ داروں نے حصہ لیا۔ یہ بات سامنے آئی ہے کہ میٹنگ میں اس بات کو شدت سے محسوس کیا گیا ہے کہ ان نوجوانوں کی رہائی کے لئے جس شدت کے ساتھ کوشش ہو نی چاہئے تھی نہیں ہوپا رہی ہے۔ اس میٹنگ کے دوران وکلاء نے بتایا کہ معاملہ میں اب تک پیش رفت اس لئے نہیں ہوسکی کہ سی سی بی کی طرف سے کیس کی چارج شیٹ داخل نہیں ہوپائی تھی اب جبکہ چارج شیٹ داخل ہو چکی ہے ان ملزمین کی ضمانت کے لئے پہل کی جائے گی جن کے خلاف یو اے پی اے کے تحت کوئی کیس درج نہیں کیا گیا ہے۔ یہ بھی بات سامنے آئی ہے کہ کے جی ہلی اورڈی جے ہلی معاملے میں پولیس کی طرف سے جس طرح اجتماعی طور پر تمام ملزمین کے خلاف یو اے پی اے مقدمے دائر کئے گئے ہیں ملک کی کسی اور ریاست میں ایسی کوئی نذیر موجود نہیں۔ اب تک ملک میں یو اے پی اے قانون کا استعمال صرف ان لوگوں پر کیا گیا ہے جنہوں نے انفرادی طور پر تشد د بھڑکانے کی کوشش کی ہے۔لیکن پہلی بارکرناٹک میں پولیس نے یو اے پی اے کا استعمال اجتماعی بنیادوں پر کیا ہے۔ ماہرین قانون کا یہ ماننا ہے کہ اس طرح کے قانون کو اجتماعی طورپر استعمال کرنے کی گنجائش کا جائزہ لیا گیا اور یہ بات سامنے آئی ہے کہ یو اے پی اے قانون انفراد دی معاملوں کے لئے بنا تھا اور انفرادی طور پر اس قانون کو استعمال کر نے کے لئے 2019کے دوران بی جے پی حکومت کی طرف سے ہی ترمیم لائی گئی لیکن جس طرح کے جی ہلی اور ڈی جے ہلی کے تمام ملزمین پر یو اے پی اے اجتماعی طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔اس پر عدالت میں سوال اٹھانے کی ضرورت ہے۔ یہ بات سامنے آئی ہے کہ گزشتہ 5سال کے دوران کرناٹک میں تشدد سے جڑے978معاملہ پیش آئے ہیں اور ان میں کے جی ہلی اورڈی جے ہلی کا واحد تشدد ہے جس میں یو اے پی اے کو اس طرح بے رحمی سے استعمال کیا گیا ہے۔ وہ افراد کو ہنگامے کے دوران اس علاقہ سے گزر رہے تھے یا صرف تماشائی تھی ان کو بھی گرفتار کر کے ان کے خلاف یو اے پی اے کے تحت متعدد مقدمات درج کئے گئے ہیں۔ یہاں تک کہ پولیس نے ا پنی بے رحمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک آٹھ سال کے بچے کو گرفتار کر کے اس کے خلاف یو اے پی اے کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔ حالانکہ ریمانڈ ہوم میں اس بچے کو رکھا گیا اس کو ضمانت مل چکی ہے لیکن اس پر درج یو اے پی اے مقدمہ باقی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ ان تمام بنیادوں پر پولیس کی طرف سے اس تشدد کیس میں یو اے پی اے کے استعمال کے جواز کو چیلنج کرنے کا فیصلہ کیا جا رہا ہے۔میٹنگ کے دوران یہ بھی طے کیا گیا ہے کہ اس معاملہ میں یو اے پی اے کے استعمال کو چیلنج کر تے ہوئے ہائی کورٹ میں داخل عرضی کی پیروی پوری شدت سے کرنے کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ سے بھی رجوع کیا جائے میٹنگ میں موجودتمام شرکاء نے اس پر اتفاق کیا۔


Recent Post

Popular Links