نئی نسل کو عزیز سیٹھ کی خدمات سے روشناس کرانا ضروری۔رحمن خان 100ویں سالگرہ پر سال بھر میں تقریبات منانے اور سرا میں عزیز سیٹھ بھون تعمیر کرنے کا اعلان

RushdaInfotech January 2nd 2021 urdu-news-paper
نئی نسل کو عزیز سیٹھ کی خدمات سے روشناس کرانا ضروری۔رحمن خان 100ویں سالگرہ پر سال بھر میں تقریبات منانے اور سرا میں عزیز سیٹھ بھون تعمیر کرنے کا اعلان

بنگلورو۔یکم جنوری (منیراحمد آزاد) عزیز الملک الحاج عزیز سیٹھ صاحب مرحوم کی آج100 ویں سالگرہ کے موقع پر انہیں خراج عقیدت پیش کرنے دفتر سالار کے آڈیٹوریم میں سابق مرکزی وزیر ڈاکٹر کے رحمن خان صاحب کی صدارت میں زوم پر ایک نشست منعقد ہوئی جس میں کئی اہم شخصیتوں نے شرکت کی۔ حافظ عبدالعظیم رحمانی کی تلاوت قرآن پاک سے نشست کا آغاز ہوا۔تعارفی کلمات میں جناب محمد عبیداللہ شریف مدیر پاسبان نے بتایا کہ اس بے باک سیاستدان اور ملک وملت کی ایک عظیم شخصیت سے متعلق نئی نسل کو آگاہ کرنے کے مقصد سے انہوں نے اوران کے دوست سابق رکن کونسل عبدالجبار اور کانگریس لیڈر سید اشرف نے جناب عزیز سیٹھ صاحب کی اہم تقاریر پر مشتمل کتاب مرتب کی ہے جس کا آج اس تقریب میں اجراء ہونا تھا لیکن جناب رحمن خان نے مشورہ دیا کہ عجلت میں اس کتاب کا اجراء کرنے کی بجائے تمام خامیوں کو درست کرکے عزیز سیٹھ صاحب کے شایان شان اس کا اجراء کیا جائے۔ اس لئے کتاب کا اجراء ملتوی کردیا گیا ہے۔جناب ماہر منصور نے کنڑا تقاریر کا اردو میں ترجمہ کیا ہے۔ عزیز سیٹھ صاحب کی بے باکی پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 1980 میں سیٹھ نے کانگریس میں واپس آنے کی نیت سے شریمتی اندرا گاندھی سے ملاقات کی اور اپنی خواہش کا اظہار کیا تواندرا گاندھی نے کہا تھا کہ کانگریس میں شامل ہونے سے قبل اپنے طرفداروں سے پوچھ لیجئے تو جواب میں سیٹھ صاحب نے کہا مجھے رہنمائی نہیں قیادت کرنی ہے۔ایسی تھی عزیز الملک کی جرأتمندی اور بے باکی۔
امیر شریعت کرناٹک مولانا صغیراحمد خان صاحب رشادی نے زوم پر اس نشست کا افتتاح کیا اور اپنے تاثرات میں کہا کہ جب بھی عزیز سیٹھ صاحب ایوانوں میں ملت کی ترجمانی کرتے ہوئے اپنی بات کہتے تو پورے وزن اور قوت کے ساتھ کہتے۔یہی سیٹھ صاحب کی خوبی تھی۔ کبھی اقتدار کی پروا نہیں کی۔ کئی بڑے بڑے عہدوں پر فائز رہے لیکن کبھی رشوت نہیں لی۔ یہی ان کی تاریخی شخصیت ہونے کی دلیل ہے۔کئی مرتبہ ایم ایل اے اور کئی بار وزارت پر فائز رہے مگر اس کے باوجود میسور میں کرایہ کے مکان میں رہتے تھے۔اس نشست کے دوران عزیز سیٹھ صاحب کا ایک ریکارڈ کردہ انٹرویو بھی دکھایاگیا جس میں انہو ں نے اپنے کیرئیر پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ انہوں نے میسور میں بیڑی مزدوروں کے لیڈر کی حیثیت سے اپنے سیاسی کیرئیر کا آغاز کیا تھا۔
سابق مرکزی وزیر ڈاکٹر کے رحمن خان نے اپنی صدارتی تقریر میں کہا کہ ایک سو سال قبل شہر میسور میں ایک بے باک رہنما کا جنم ہوا تھا جن کا نام عزیز سیٹھ تھا۔سیٹھ صاحب نے بارہا اعتراف کیا ہے کہ اتبدائی دور میں وہ تجارت کرتے تھے۔ شاید بہت ہی کم لوگ ان کی ابتدائی زندگی سے واقف ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ 1955تا 1959 جب وہ میسور میں طالب علم تھے، اس وقت سیٹھ صاحب ایک مزدور لیڈر تھے۔1950 سے انہوں نے بیڑی مزدورو ں کی قیادت کرنی شروع کی تھی۔ اس وقت بیڑی مزدوروں کو ایک ہزار بیڑی بنانے میں ایک روپیہ سے کم اجرت دی جاتی تھی۔ سیٹھ صاحب نے احتجاجات اور مظاہرے کرکے اجرت میں خاطر خواہ اضافہ کروایا تھا۔اسی سے پتہ چلتا ہے کہ وہ ابتدائی دور ہی سے بے باک تھے۔ رحمن خان نے بتایا کہ 1855 میں کانگریس عروج پر تھی۔ اس وقت سیٹھ صاحب کے تایا آزاد امیدوار کی حیثیت سے ایم ایل اے منتخب ہوئے تھے۔ انہو ں نے بتایا کہ سیٹھ صاحب1960 میں سوشلسٹ پارٹی کے ذریعہ سیاست میں داخل ہوئے تھے۔ ابتداء میں بلدی انتخابات میں حصہ لیا تھا۔اس دوران سیٹھ صاحب نے ان کے والد جناب قاسم خان سے بھی ملاقات کی تھی۔
مسلمانوں کا بدترین دور: رحمن خان نے بتایا کہ 1964ہندوستانی مسلمانوں کا بدترین دور تھا۔اسی دور میں مجلس مشاورت کا وجود عمل میں آیا۔ مشاورت کا وفد ہندوستان کے مختلف صوبوں کا دورہ کرتے ہوئے جب کرناٹک پہنچا تو عزیز سیٹھ صاحب نے کرناٹک کی قیادت اپنے ذمہ لی۔ اس وقت روزنامہ سالار کی بھی بنیاد ڈالی گئی تھی۔ مشاورت کے دوران کی رپورٹ روزانہ پابندی کے ساتھ روزنامہ سالارمیں شائع ہوتی تھی۔ اس دوران سیٹھ صاحب کرناٹک کے لیڈر بن کر ابھرے تھے۔1965 میں انہیں گرفتار بھی ہونا پڑا۔ 1970 میں سیٹھ صاحب پہلی مرتبہ ریاستی اسمبلی میں داخل ہوئے اور بہت ہی کم عرصہ میں اپنی دیانتداری اور بے باکی سے وزیراعلیٰ دیوراج ارس کے قریبی ساتھی بن گئے۔انہو ں نے بتایا کہ سیٹھ صاحب کو کوئی سیاسی پارٹی اہم نہیں تھی بلکہ وہ پارٹی کے لئے اہم تھے۔
وقف بورڈ کے لئے تاریخی قدم: ریاستی وقف بورڈ کے لئے سیٹھ صاحب کی بے لوث خدمات کا ذکر کرتے ہوئے رحمن خان نے بتایا کہ سیٹھ صاحب جب اوقاف کے وزیر بنے تو وقف کی 400 سے زیادہ بڑی جائیدادیں محکمہ مزراعی میں شامل تھیں۔ مرحوم ہی کی کوششوں کا نتیجہ کہ ان 400/ اہم جائیدادوں کو مزراعی سے نکال کر وقف بورڈ کے ماتحت دیا گیا۔ عزیز سیٹھ صاحب کایہ ایک تاریخی قدم تھا۔ اس پر اس وقت کے چیف سکریٹری بالا سبرمنیم نے اعتراض کیا تو انہوں نے کھلے عام بیت دکھا کر اس کو دھمکایا تھا۔ایسی تھی ان کی بے باکی۔
اس نشست میں رحمن خان نے سیٹھ صاحب کے مختلف پہلو اورخدمات پر روشنی ڈالی اور کہا کہ سیٹھ صاحب نے ریاستی وقف بورڈ کے لئے جو خدمات انجام دئے ہیں بورڈ کی تاریخ میں ہمیشہ اس کو یاد رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک انہیں یاد ہے سیٹھ صاحب نے کبھی انتقام کی سیاست نہیں کی اور نہ ہی کسی سے انتقام لیا۔ یہ ان کی خوبی تھی۔ انہیں دولت کا لالچ نہیں تھا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ عزیز سیٹھ صاحب کی 100ویں سالگرہ تقریبات سال بھر الگ الگ موقعوں پر منائی جائیں گی اور نئی نسل کے سامنے ان کے کارناموں اور خدمات کا خاکہ رکھا جائے گا۔ کیونکہ نئی نسل کو مسلمان مجاہدین آزاد ی یہاں تک کہ مولانا ابوالکلام آزاد کی تاریخ بھی معلوم نہیں ہے۔ دراصل ان تاریخوں سے ہی ہم سبق حاصل کرسکتے ہیں۔
عزیز سیٹھ بھون: کانگریس لیڈر سید اشرف نے بتایا کہ ایک دور میں وہ خود عزیز سیٹھ صاحب کے پی اے رہ چکے ہیں۔انہو ں نے کہا کہ اس وقت نئی نسل کو سیٹھ صاحب کی خدمات سے روشناس کرانا ضروری ہے۔اپنے آبائی وطن سرا میں قومی شاہراہ پر عزیز سیٹھ بھون کی تعمیر کے لئے ایک ایکڑ زمین اور 25لاکھ روپئے دینے کا اعلان کرتے ہوئے مشورہ دیا کہ اس کام کو انجام دینے جلد ازجلد ایک کمیٹی تشکیل دی جائے۔


Recent Post

Popular Links