سی ایم اے کو ایک فعال ادارہ بنانے کی کوشش جاری ہے میسور روڈ پر ایک یونیورسٹی اور ایک شاپنگ مال بنانا میرا خواب:ضیاء اللہ شریف

RushdaInfotech November 19th 2020 urdu-news-paper
سی ایم اے کو ایک فعال ادارہ بنانے کی کوشش جاری ہے میسور روڈ پر ایک یونیورسٹی اور ایک شاپنگ مال بنانا میرا خواب:ضیاء اللہ شریف

بنگلورو۔18نومبر(سالار نیوز)کرناٹک کے مسلمانوں کا ایک ممتاز ادارہ سنٹرل مسلم اسوسی ایشن آف کرناٹکا (سی ایم اے) جو کسی دور میں مسلمانوں کے لئے مرکزی انجمن کا مقام رکھتا تھا، عہد رفتہ کے ساتھ اس ادارے کی مقبولیت میں کمی آگئی اور ایسا لگنے لگا ہے کہ اس ادارے کی سرگرمیاں محدود ہو کر رہ گئی ہیں۔ سی ایم اے کے ساتھ دیگر قوموں کے جن اداروں نے شروعات کی وہ ترقی کرتے کرتے کافی دور تک آگے بڑھ گئے۔ آخر سی ایم اے کی سرگرمیاں کیوں محدود رہ گئی ہیں؟ اس سلسلہ میں سنٹرل مسلم اسوسی ایشن کے صدر اور شہر بنگلورو کے معروف بلڈر انڈیا بلڈرس کارپوریشن کے چیر مین ضیاء اللہ شریف سے نمائندہ سالار نے خصوصی گفتگو کی۔ اس سوال پر کہ سی ایم اے جیسا ادارہ جس کی 100سال سے زیادہ کی تاریخ ہے، آخر دن بدن اس کی سرگرمیاں محدود کیوں ہو تی جا رہی ہیں؟۔ ضیاء اللہ شریف نے بتایا کہ ایسا نہیں کہ اس ادارے کی سرگرمیاں محدود ہو کر رہ گئی ہیں،بلکہ یہ ایک فعال ادارہ ہے، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جذبہ خلو ص کے ساتھ اس ادارے سے جڑ کر کام کرنے والوں کی بہت کمی ہے۔ ہمارے بزرگوں نے ملت اسلامیہ کو فائدہ پہنچانے کے لئے مخلصانہ جذبے کے ساتھ اس ادارے کی بنیاد ڈالی اور یہ انہیں کی کاوشوں کا نتیجہ ہے کہ آج تک یہ ادارہ چل رہا ہے۔ جہاں تک اس کی ترقی کی بات ہے، اگر ملت کے اہل خلوص پیش پیش ہو کر بے لوث جذبے سے کام کرنے کے لئے آگے آئیں تو یہ ناممکن ہے کہ یہ ادارہ بھی دیگر اداروں کی طرح ترقی نہیں کر سکتا۔انہوں نے اس سلسلے میں ایک شعر سنایا کہ”جو ایک لفظ کی خوشبو نہ رکھ سکا محفوظ، ہم اس کے ہاتھ میں پوری کتاب کیا دیں گے“۔انہوں نے مزید کہا کہ بدقسمتی سے بے لوث اور مخلصانہ جذبے سے کام کرنے والوں کی کمی کے سبب مجبوراً ان لوگوں کے ساتھ کام کرنا پڑ تا ہے جو اپنے ساتھ اپنا اپنا ایجنڈا رکھ کر آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سی ایم اے میں ان کی صدارت سنبھالنے سے پہلے ہی بزرگوں نے بہت سارے کارنامے انجام دئیے ہیں اور انہیں کی کاوشو ں کا نتیجہ ہے کہ سی ایم اے ایک مقبول ادارہ بن سکا ہے۔ اب ان کے لئے یہاں کرنے کے لئے دو اہم کام رہ گئے ہیں، پہلا یہ کہ سی ایم اے کی جو 22/ایکڑ زمین میسور روڈ پر موجود ہے وہاں وہ ایک بہترین یونیورسٹی تعمیر کرنا چاہتے ہیں، اس کے علاوہ چک پیٹ میٹرو ریلوے اسٹیشن جو سی یم اے کی جگہ پر ہی بنا ہے اس کے قریب موجود سی ایم اے کی زمین پر وہ ایک عالیشان شاپنگ مال بنانے کا منصوبہ رکھتے ہیں۔ ان دونوں منصوبوں کو کامیاب بنانے کے لئے انہیں تمام حلقوں سے تعاون کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ایسے لوگوں کو ساتھ میں لے کر کام کریں جو ان کے ہم خیال ہوں اور جذبہ خلوص اور فکر مندی کے ساتھ کام کر نا چاہیں۔ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس طرح کے جذبہ کے ساتھ کام کرنے والے لوگوں کی بہت کمی ہے۔ ادارے کی داخلی جمہوریت کو لاحق خطرے کے متعلق ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ عالمی،قومی اور ریاستی سطح کے حالات کا جائزہ اگر لیا جائے تو اوپر سے لے کر نیچے تک جمہوریت خطرے میں ہے۔ ان حالات میں جو لوگ جذبہ خلوص کے ساتھ کام میں لگے ہیں، انہیں کام کرنے کا موقع ملنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ جو حالات ہمارے سامنے ہیں وہ اللہ کی ناراضی کا مظہر ہیں۔ انہوں نے اس کے لئے حضرت موسیٰ ؑ کے ایک واقعہ کی مثال دے کر بتایا کہ حضرت موسیٰ ؑ نے ایک بار اللہ تعالیٰ سے سوال کیا کہ اگر آپ خوش ہوں گے تو آپ کیا کریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے جواب دیا کہ اگر میں خوش ہوا تو اچھے حکمران بھیجوں گا،مالداروں کو سخی بنادوں گا اور وقت پر بارش برساؤں گا۔ اس کے بعد جب حضرت موسیٰ ؑ نے سوال کیا کہ اگر ناراض ہو گئے تو، تو اللہ تعالیٰ کے جوابات بھی برعکس تھے۔ ضیاء اللہ شریف نے کہا کہ شاید آج انسانیت اس دور سے گزررہی ہے، جہاں اللہ تعالیٰ ناراض ہیں۔ لیکن اس سے مایوس ہونے کی ضرورت نہیں،بلکہ اللہ کومنانے کی ضرورت ہے۔انہوں نے کہا کہ حالات خراب ضرورہیں لیکن مایوس ہونے کی ضرورت نہیں،ہم گنہگار ضرور ہیں لیکن بے ایمان نہیں۔ اس لئے اللہ کی ذات سے امید برقرار رکھیں اوریقین رکھیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے انصاف ضرور ہو گا۔


Recent Post

Popular Links