بنگلور تشدد معاملہ: جمعیۃ علماء کرناٹک مظلوموں کے ساتھ کھڑی ہے

RushdaInfotech October 18th 2020 urdu-news-paper
بنگلور تشدد معاملہ: جمعیۃ علماء کرناٹک مظلوموں کے ساتھ کھڑی ہے

بنگلور۔ 17/ اکتوبر (راست) گزشتہ دنوں شہر گلستان بنگلور کے پُرامن ماحول کو فرقہ پرست طاقتوں نے رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی شانِ اقدس میں گستاخی کے ذریعہ بگاڑنے کی کوشش کی۔ جس کی وجہ سے شہر کا نہ صرف ماحول خراب ہوا بلکہ تشدد کا واقعہ پیش آگیا۔ جس کے زد میں بہت سارے بے قصور مسلمانوں کی گرفتاریاں عمل میں آئیں۔ جن میں سے اکثر یومیہ مزدور اور اپنے اپنے گھروں کے ذمہ دار افراد تھے، جن کی گرفتاری کے بعد ان کے گھر فقر و فاقہ کی آماجگاہ اور ظلم و ستم کی منہ بولتی تصویریں پیش ہیں۔ان گرفتار شدہ نوجوانوں میں سرکاری قانون کے لحاظ سے ناقابل گرفت اسٹوڈنٹ بھی تھے، جن کو بعد میں جمعیۃ علماء کرناٹک اور دیگر وکلاء کی کوششوں سے رہائی حاصل ہوئی۔ مذکورہ بالاخوف و ہراس کے ماحول میں میدان میں اتر کر گرفتار شدہ افراد کے محلوں اور گھروں تک پہنچ کر اُن کے ساتھ کھڑا ہونا ایک بڑا چیلنج تھا۔ ایسی صورت حال میں جمعیۃ علماء ہند کے قومی صدر مولانا سید ارشد مدنی صاحب کے حکم پر جمعیۃ علماء کرناٹک نے نہ صرف متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا بلکہ تقریباً تمام متاثرین کے گھروں تک پہنچ کر ان مستحق افراد کی پریشانیوں کو سن کر اس کے موافق ضروریات کی تکمیل کیلئے اقدام کیا۔ اسی ضمن میں جمعیۃ علماء کرناٹک نے سیاسی قائدین خصوصاً کرناٹکا کانگریس پارٹی کے سابق صدر دنیش گنڈو راؤ، مینارٹیز چیئرمین عبد العظیم، کرناٹک کے سابق وزیر اعلیٰ سدارا میا، رکن کونسل نصیر احمد سے ملاقات کرکے متاثرہ علاقہ ڈی جے ہلی، کے جے ہلی، تھنی سندرا وغیرہ میں پولیس کی پُر تشدد کارروائی کے نتیجے میں گرفتار بے قصوروں کی رہائی کا پُر زور مطالبہ کیا۔ جس کے بعد اسمبلی سیشن میں سدارامیا اور نصیر احمد و دیگر نے بھی حکومت سے ان بے گناہ افراد کی گرفتاری اور پولیس کے ظلم و بربریت پر سوال اٹھاتے ہوئے بے قصوروں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ ایسے حالات میں جمعیۃ علماء کرناٹک کے صدر مولانا عبد الرحیم رشیدی اور جنرل سکریٹری محب اللہ خان امین و دیگر اراکین جمعیۃ علماء نے متاثرہ علاقے کا دورہ کرکے گھر گھر پہنچ کر تفصیلی جائزہ لے کر ڈرے سہمے لوگوں کی ہمت بندھا کر ان کی ضروریات کے پیش نظر اب تک تقریباً ایک سو سے زائد گھرانوں کو راشن کٹ کے ذریعہ تعاون کیا ہے اور کہا ہے کہ مستحق افراد کی رہائی تک تعاون کا سلسلہ جاری رہے گا۔ نیز گرفتار شدہ معصوم افراد کی رہائی کیلئے بھی جمعیۃ علماء خوب جدوجہد کررہی ہے۔ اس سلسلے میں جمعیۃ علماء کرناٹک و جمعیۃ علماء ضلع بنگلور کے اراکین اور دیگر وکلاء و تنظیمیں برابر مشورہ کررہی ہیں اور جہاں جہاں ضرورت ہے وہاں وہاں جمعیۃ علماء پہنچ رہی ہے اور ہر طرح کا تعاون کررہی ہے اور آگے بھی دینے تیار ہے۔


Recent Post

Popular Links