کلکتہ ہائی کورٹ کا پرائیویٹ اسکولوں کو بڑا حکم کورونا وبا کے دوران20 فیصد کم کریں ٹیوشن فیس

RushdaInfotech October 15th 2020 urdu-news-paper
کلکتہ ہائی کورٹ کا پرائیویٹ اسکولوں کو بڑا حکم  کورونا وبا کے دوران20 فیصد کم کریں ٹیوشن فیس

کلکتہ-14/اکتوبر(اے یوایس) کلکتہ ہائی کورٹ نے مغربی بنگال کے145نجی اسکولوں کو حکم دیا ہے کہ وہ کورونا وائرس بحران کے دوران کم سے کم بیس (20) فیصد ٹیوشن فیس کم کرنے کی پیشکش کریں - اس کے ساتھ ہی کہا کہ سہولیات کے استعمال کیلئے غیر ضروری فیس کی اجازت نہیں ہوگی- غور طلب ہے کہ شہر کے 145نجی اسکولوں میں زیر تعلیم بچوں کے والدین نے اسکول فیس میں کمی کی درخواست کرنے کی عرضی دائر کی تھی- ان کا کہنا تھا کہ کلاسز صرف آن لائن ہی چلائی جارہی ہیں -عدالت نے حکم دیا کہ مالی سال2020-21میں فیسوں میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا اور اپریل2021 سے جب تک اسکول دوبارہ مکمل طور پر روایتی طریقے سے کھل نہیں جاتے تب تک تمام145اسکولوں میں کم از کم20فیصد فیس میں کمی کرنے کی پیشکش کریں گے-یہ فیصلہ جسٹس سنجیب بینرجی اور جسٹس موسمی بھٹاچاریہ کی بنچ نے دیا- عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ وہ اس درخواست پر7دسمبر 2020کو دوبارہ سماعت کرے گی- اس سے پہلے عدالت ہدایات کی تعمیل میں پیشرفت پر نظر رکھے گی-فیس کم کرنے کے حکم کے علاوہ اسکول کھولنے کی بات کریں تو ان لاک5کی گائیڈ لائنس میں پندرہ(15) کے بعد سے سبھی اسکول اور کالج کو قاعدے و قانون کے ساتھ کھولنے کی اجازت دے دی گئی ہے- اس کا فیصلہ مرکزی حکومت نے ریاستوں پر چھوڑ دیا ہے-ریاستی وزیر تعلیم پارتھوچٹرجی نے بھی پرائیوٹ اسکولوں سے کہا تھا کہ اسکولوں کی فیس کو جمع کرنے کے معاملہ میں ہمدردی سے کام لیں - تاخیر سے فیس جمع کرنے والوں سے اس پر جرمانہ نہ لیا جائے- محکمہ تعلیم کے سکریٹری منیش جین نے کہا کہ حکومت نے تعلیمی سیشن2020-21کیلئے ٹیوشن فیس سمیت کسی بھی فیس میں اضافہ نہیں کرنے کی ہدایت دی ہے- سرکاری حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ اسکولوں کے ذریعہ کوئی نئی فیس نہیں لی جانی چاہئے اور طلبا کو آن لائن کلاسوں سمیت دیگر خدمات فراہم کرنا لازمی ہوگا- تاہم حکومت کی مداخلت کے باوجود پرائیوٹ اسکولوں میں پڑھنے والے بچوں کے والدین مسلسل احتجاج کر رہے تھے- والدین کے ایک گروپ نے اس معاملے میں عدالت سے رجوع کیا تھا-


Recent Post

Popular Links