اپوزیشن نے پارلیمنٹ کا بائیکاٹ ختم کرنے3شرطیں رکھیں حکومت معطل ارکین کی طرف سے اظہار معذرت پر بضد

RushdaInfotech September 23rd 2020 urdu-news-paper
اپوزیشن نے پارلیمنٹ کا بائیکاٹ ختم کرنے3شرطیں رکھیں  حکومت معطل ارکین کی طرف سے اظہار معذرت پر بضد

نئی دہلی،22ستمبر(آئی این ایس) زرعی بل پرراجیہ سبھا میں ہنگامہ آرائی کے بعد 8/اپوزیشن اراکین کی معطلی کو لے کر پارلیمنٹ میں جو تعطل پیدا ہوا ہے،وہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے۔پارلیمنٹ کا بائیکاٹ ختم کرنے کیلئے اپوزیشن کانگریس نے حکومت کے سامنے 3شرطیں رکھیں ہیں، ان میں 8/اراکین کی معطلی منسوخ کرنا،زرعی بل میں ایک ایسی ترمیم لانا جس کے تحت کوئی بھی نجی خریدار کسان سے فصل حکومت کی طے شدہ کم از کم تائیدی قیمت سے کم میں نہ خریدے،تیسری شرط یہ کہ تائیدی قیمت کا تعین سوامی ناتھن کمیٹی سفارشات پر ہو۔مرکزی حکومت نے دوسری طرف 8/اراکین کی معطلی ختم کرنے کیلئے یہ شرط رکھی کہ راجیہ سبھا میں ان اراکین نے جو ہنگامہ کھڑا کیا اس کیلئے انہیں نادم ہونا چاہئے۔نائب صدر ہند اور راجیہ سبھا کے چیئرمین وینکیا نائیڈو نے اپوزیشن اراکین سے اپیل کی کہ وہ ایوان کی کارروائیوں کے بائیکاٹ کے فیصلے پر نظر ثانی کریں۔ رات بھر احتجاج کے طور پر پارلیمنٹ کمپلیکس میں دھرنے پر بیٹھے معطل ارکان پارلیمنٹ نے اپنا دھرنا ختم کردیاہے۔ ناراض ارکان پارلیمنٹ نے معطلی کی مخالفت میں پیر کو پارلیمنٹ کمپلیکس میں گاندھی کے مجسمے کے قریب احتجاج شروع کیا۔ موصولہ اطلاع کے مطابق معطل ارکان پارلیمنٹ نے غلام نبی آزاد کی درخواست کے بعد اپنا دھرناختم کیا۔ آزاد نے منگل کے روز ان معطل ارکان پارلیمنٹ سے ملاقات کی اور اس کے بعد اپنے مطالبات سامنے رکھے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے راجیہ سبھا میں کانگریس پارٹی کی جانب سے تین اہم مطالبات کیے ہیں۔کانگریس کے راجیہ سبھا ممبر اور معطل ممبران پارلیمنٹ میں سے ایک راجیو ساتو نے کہا کہ حزب اختلاف اس اجلاس میں راجیہ سبھا کی کارروائی کا بائیکاٹ کرے گی۔ ایسی صورتحال میں ہم نے دھرنا ختم کردیا ہے۔ اب ہم سڑک پر احتجاج کریں گے۔پہلا مطالبہ یہ ہے کہ حکومت نیا بل لائے جس میں اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ کوئی بھی نجی کمپنی ایم ایس پی کے تحت کسانوں سے کوئی پیداوار نہیں خرید سکتی ہے۔ ہمارا دوسرا مطالبہ یہ ہے کہ ملک میں ایم ایس پی کو سوامی ناتھن اسکیم کے تحت طے کیا جائے۔ ہمارا تیسرا مطالبہ یہ ہے کہ حکومت ہند ریاستی حکومت یا فوڈ کارپوریشن آف انڈیا اس بات کو یقینی بنائے کہ ان کی پیداوار کسانوں سے مقررہ ایم ایس پی ریٹ پر خریدی جائے۔ جب تک ان تین مطالبات پر غور نہیں کیا جاتا ہم ایوان کی کارروائی کا بائیکاٹ کریں گے۔


Recent Post

Popular Links