قباء کووِڈ سنٹر میں سدارامیا کے ہاتھوں خصوصی تقریب کا افتتاح پلازمہ عطیہ دینے والوں کو تہنیت پیش کی گئی

RushdaInfotech September 21st 2020 urdu-news-paper
قباء کووِڈ سنٹر میں سدارامیا کے ہاتھوں خصوصی تقریب کا افتتاح  پلازمہ عطیہ دینے والوں کو تہنیت پیش کی گئی

میسورو۔20 (پیر پاشاہ) یہاں کے ادیگری میں واقع مسجد قباء کے قریب واقع حضرت علی ایجو کیشنل ٹرسٹ احاطہ میں پچھلے ماہ جولائی سے مسلسل کووِڈ ٹسٹ سنٹر کے سلسلہ میں ترتیب شدہ قباء کووڈ ہیلپ لائن سنٹر میں سابق وزیر اعلیٰ و کانگر یس کے سینئر قائد شری سدرا میا کے ہاتھوں اسی سنٹر سے جانچ کے بعد صحت یاب ہو چکے تقریباً دس افراد کی جانب سے پلازمہ کے عطیہ کو لے کر خصوصی تقریب کا افتتاح عمل میں آیا۔جو کے پی سی سی ڈاکٹر سیل کے مشترکہ تعاون سے منعقد کیا گیا۔ معزز مہمانوں میں حلقہ نرسمہاراجہ کے رکن اسمبلی تنویر سیٹھ، مولانا مفتی سید تاج الدین، مولانا مولانا ذکا اللہ صدیقی،سابق اراکین اسمبلی شری واسو اور ا یم کے سوم شیکھر،سابق مئیر و کارپوریٹر عارف حسین،ڈپٹی مئیر سری دھر،میسور سٹی کانگریس پر صدر آر مورتی،کار پوریٹرس بشیر، سید،حسرت اللہ،سابق کار پوریٹر کے سی شوکت پاشاہ،محمد ظہیر الحق،کے پی سی سی ڈاکٹرس سیل وغیرہ شریک رہے۔اس موقع پر تمام حاضرین کا خیر مقدم کرتے ہوئے ایوب خان ہوئے کہا کہ جب اس علاقہ میں کووِڈ وباء کے چلتے قوم کے افراد کی مسلسل اموات کا سلسلہ جاری ہو ا تو کچھ عمائد ین،علماء کرام اور متعلقہ ڈاکٹروں کی جانب اہم مشاورتی اجلاس طلب کرتے ہوئے اس ضمن میں ٹھوس اقدامات کی جانب چند اہم فیصلے لئے گئے تاکہ قوم میں موجود گھبراہٹ کو دور کیا جا سکے۔ الحمد للہ اس قباء اسکول میں ہیلپ لائن بنائی گئی۔اس موقع پر تنویر سیٹھ نے کہا کہ کووِڈجیسی وباء کو پچھلے چھ ماہ سے ہم محسوس کر رہے ہیں وہیں یہاں کی گئی ایک کامیاب کوشش قرار دی جاسکتی ہے بحیثیت ایم ایل اے میں نے وقتاً فوقتاً متعلقہ حکام سے تمام باتوں کو لے کر جہاں تبادلہئ خیال کیا وہیں، چند ایک ضروری ہدایات دیتے ہوئے متاثرین کے علاوہ نان کووِڈ مریضوں جیسے دل کے مریض وغیر ہ کے سلسلہ میں کا م کئے گئے۔کووِڈ سنٹرس بنائے گئے۔ وہ تمام پچھلی کانگریس حکومت کی ہی دین ہے موجودہ حکومت اس وباء کو لے کر پوری طرح سے ناکام ہو چکی ہے۔ علاقہ میں موجود مسجد بلا ل مسجد یاسین قباء مسجد کے ذمہ دار ڈاکٹر،علماء کرام خصوصاً عبدالعز یز اور ایوب خان اور ٹیم کی کا وشیں قابل تعریف ہیں۔ مزید یہ کہ جن جن کو کووِڈ پازیٹیو قرار دیا گیا انہیں یہیں قریب موجود انڈو لیس اسکول،فاروقیہ کالج اور بیڑی مزدوروں کی اسپتال میں بیڈس اور علاج و معالج کی سہولیات دی گئیں۔سابق وزیر اعلیٰ سد رامیا نے کہاکہ جب اس ملک میں کورونا جیسی وباء کا آغا زہوا اس وقت ملک کے وزیر اعظم مودی نے بناسوچے سمجھے لاک ڈاؤ ن کر دیا کسی بھی بات کی منصوبہ بندی کے بغیر کیا گیا کام ہمیشہ ناکام ہو تا ہے بجائے کوئی ٹھوس اقدام کرنے کے کبھی ملک کے عوام کو تالی بجانے پر مجبور کیا تو کبھی شمع جلانے کی بات کی گئی۔ اس طرح کے خیالی پلاؤ سے کچھ حاصل نہ ہوا اور مودی نے یہ بھی کہا تھا کہ ملک میں ایک ماہ کے اندر کووِڈ پر قابو پالیا جا ئے گا، مگر ہوا کیا جہاں سینکڑوں کی تعداد تھی آج لاکھوں کی تعداد میں متاثرین پہنچ چکے ہیں۔ دنیا میں امریکہ کے بعد زائد متاثرین کی تعدادملک میں ہے۔جہاں مرکزی حکومت ناکام رہی وہیں ریاستی حکومت نے بھی اپنی ناقص کا رکردگی کے چلتے وباء کی روک تھام کے نام پر کروڑوں کا گھپلہ کیا۔بعد ازاں پلازمہ عطیہ دینے والوں کو سدرامیا کے ہاتھوں تہنیت پیش کی گئی۔


Recent Post

Popular Links