33,000کروڑروپئے اضافی قرضہ حاصل کرنے حکومت کافیصلہ ریاستی خزانہ پربوجھ پڑے گا لیکن ترقیات کے لئے یہ جوکھم ضروری ہے:مادھوسوامی

RushdaInfotech September 16th 2020 urdu-news-paper
33,000کروڑروپئے اضافی قرضہ حاصل کرنے حکومت کافیصلہ  ریاستی خزانہ پربوجھ پڑے گا لیکن ترقیات کے لئے یہ جوکھم ضروری ہے:مادھوسوامی

بنگلور۔15ستمبر(سالارنیوز)کوروناوائرس کاپھیلاؤ اوراس کے نتیجہ میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے ذرائع آمدنی سکڑگئے،ریاستی خزانہ خالی ہوگیا اورریاست مالی بحران کاشکارہوگئی ہے۔اقتصادی بحران اورمالی مشکلات کی شکارریاست میں ترقیاتی کاموں کے لیے حکومت نے اضافی طورپر 33,000 کروڑروپئے کاقرضہ حاصل کرنے کافیصلہ کیاہے۔اس کے لیے بروزمنگل ہوئے کابینہ اجلاس میں کرناٹک کے اقتصادی نظم وانصرام ضابطہ میں ترمیم کرنے کی منظوری دی گئی ہے۔مرکزی حکومت نے ملک کی ریاستوں کی جانب سے قرضہ حاصل کرنے کی مقدارمیں جی ایس ڈی پی کے تحت 3سے 5فیصدتک اضافہ کرنے کی اجازت دی ہے۔اس لیے کرناٹک مالیاتی ذمہ داری ایکٹ میں ترمیم لانے کوریاستی کابینہ نے منظوری دی ہے۔اس بات کی اطلاع ریاستی وزیربرائے قانون وامورپارلیمان جے سی مادھوسوامی نے دی ہے۔انہوں نے کہا کہ ریاست کااقتصادی نظام مشکلا ت کا شکارہے،اس لیے ایک مرتبہ کے لیے اضافی قرضہ حاصل کرنے کافیصلہ کیاگیاہے۔مرکزی حکومت کی جانب سے قرضہ حاصل کرنے کی مقدارمیں 5فیصدتک اضافہ کئے جانے کے پیش نظرریاستی حکومت کے لیے بھی یہ گنجائش نکل آئی ہے کہ وہ 36,000کروڑتک کا قرضہ حاصل کرے۔ تاہم حکومت نے 33,000کرو ڑروپئے قرضہ حاصل کرنے کافیصلہ کیاہے۔اس اضافی قرضہ کے حصول سے ریاست میں ترقیاتی کاموں میں پیش رفت آنے میں آسانی ہوگی۔ انہوں نے مزیدکہا کہ گوڈس سرویس ٹیکس(جی ایس ٹی)بورڈاجلاس میں ریاستوں کوقرضہ حاصل کرنے کامشورہ دیاگیاہے۔یہ مشورہ اوریاستی حکومت کی جانب سے حاصل کئے جارہے قرضہ کاکوئی تعلق نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ جی ایس ٹی معاوضہ کے طورپر مرکزی حکومت کی جانب سے ریاست کیلئے 11,000 کروڑ روپئے واجب الاداہیں۔ اس معاملہ میں ریاست کی طرف سے کئے جارہے مطالبہ میں کوئی تبدیلی نہیں لائی گئی ہے۔انہوں نے کہاکہ تمام ریاستوں کویہ اجازت دی گئی ہے کہ وہ اضافی قرضہ حاصل کرسکتی ہیں۔ریاست کے ذرائع آمدن میں کمی آگئی ہے اورترقیاتی کاموں میں رکاوٹیں کھڑی ہوگئی ہیں۔اس لیے اضافی قرضہ حاصل کرنے سے ریاستی خزانہ پربوجھ بڑجائے گا لیکن ہمارے لیے اس کے علاوہ کوئی اورراستہ نہیں ہے اس لیے ریاستی حکومت نے ے جوکھم اٹھانے کافیصلہ کیاہے۔


Recent Post

Popular Links