چین کے ساتھ تنازعہ کے پُر امن حل کا پابند لیکن تمام صورتحال کیلئے تیار:راجناتھ

RushdaInfotech September 16th 2020 urdu-news-paper
چین کے ساتھ تنازعہ کے پُر امن حل کا پابند لیکن تمام صورتحال کیلئے تیار:راجناتھ

نئی دہلی۔ 15 ستمبر (یو این آئی) ہندوستان نے چین کو آج پارلیمنٹ سے سخت پیغام دیتے ہوئے کہا کہ مشرقی لداخ کے سرحدی علاقوں کی حیثیت کو یکطرفہ تبدیل کرنے کی اس کی کوشش کسی بھی طور پر منظور نہیں ہے۔ ہندوستان اس معاملے کا حل پارلیمنٹ سے کرنا چاہتا ہے لیکن اپنی خود مختاری، علاقائی اتحاد و سا لمیت کی دفاع کی خاطر تمام صورتحال کے لیے تیار بھی ہے۔ وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے مشرقی لداخ میں لائن آف ایکچول کنٹرول (ایل اے سی) پر چینی فوج کے ساتھ ڈیڈ لاک پر لوک سبھا میں بیان دیتے ہوئے چین اورعالمی برادری سے دو ٹوک کہا کہ چین نے ایل اے سی پر اپریل سے یکطرفہ تبدیلی کے ارادے سے فوج میں اضافہ شروع کر دیا اور پھر ہندوستانی فوج کی با ضابطہ گشت میں خلل ڈالا۔ بعد ازاں حل کے لیے جب فوجی کمانڈر کی سطح کی بات چیت پر اتفاق رائے ہوا تو اس کی خلاف ورزی کرکے چینی فوج نے ہندوستانی فوجیوں پر پُرتشدد حملے کیے۔ ہمارے بہادر سپاہیوں نے اپنی جان کی قربانی دی۔ وہ چینی فریق کو شدید نقصان پہنچانے کے ساتھ ہی اپنی سرحد کی حفاظت میں کامیاب رہے۔وزیر دفاع نے کہا کہ ماسکو میں چین کے وزیر دفاع سے انہوں نے بات چیت میں کہا”اس معاملے میں ہندوستان اس مسئلے کو پُر امن ڈھنگ سے حل کرنا چاہتا ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ چینی فریق ہمارے ساتھ مل کر کام کرے۔ وہیں ہم نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ ہم ہندوستان کی خود مختاری اور علاقائی سا لمیت کی دفاع کے لیے مکمل پرعزم ہیں“۔ انہوں نے کہا:ہم موجودہ صورتحال کے پُر امن حل کے تئیں پابند عہد ہیں۔ ساتھ ہی تمام صورتحال سے نمٹنے کے لیے بھی تیار ہیں۔ میں یہ یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ہمارے مسلح فورسز کے جوانوں کا جوش و ولولہ اور حوصلہ بلند ہے۔
مسٹر سنگھ نے کہا،‘ چینی فریق نے ایل اے سی پر اور اندرونی علاقوں میں بڑی تعداد میں فوجی ٹکڑیاں اور گولہ بارود اکٹھا کیا ہوا ہے۔ مشرقی لداخ اور گوگرا، کونگکا لا اور پینگانگ جھیل کا شمالی اور جنوبی ساحلوں پر کئی متنازعہ نکات ہیں۔ چین کی کاروائی کے جواب میں ہماری مسلح فوجیوں نے بھی ان علاقوں میں مناسب جوابی تعیناتی کی ہیں تاکہ ہندوستان کی سلامتی مفاد مکمل طور پر محفوظ رہے‘۔


Recent Post

Popular Links