آج سے پارلیمان کا مانسون اجلاس،دھماکہ خیز ہونے کے آثار اپوزیشن کی ایل اے سی،معاشی بدحالی اوربے روزگاری پرحکومت کو گھیرنے کی تیاری-حکومت نے کہا،قومی سلامتی اوراسٹریٹیجک مفادات کودیکھتے ہوئے فیصلہ لیاجائے گا

RushdaInfotech September 14th 2020 urdu-news-paper
آج سے پارلیمان کا مانسون اجلاس،دھماکہ خیز ہونے کے آثار  اپوزیشن کی ایل اے سی،معاشی بدحالی اوربے روزگاری پرحکومت کو گھیرنے کی تیاری-حکومت نے کہا،قومی سلامتی اوراسٹریٹیجک مفادات کودیکھتے ہوئے فیصلہ لیاجائے گا

نئی دہلی-13ستمبر(ایجنسی)پیر 14ستمبر سے پارلیمان کا مانسون اجلاس بہت مختصر مدت کیلئے شروع ہورہاہے،جس میں سماجی فاصلے کی مکمل پابندی کی جائے گی اور ایوان کے اندر اورباہر احتجاج کی اجازت نہیں دی جائے گی-ملک کی تاریخ میں پہلی بار ایوان میں وقفہ سوالات نہیں ہوگا اور ایک ایوان کے ممبران پارلیمان کے دونوں ایوانوں میں اور مشاہدین گیلریوں میں بیٹھیں گے -17ویں لوک سبھا کا چوتھا اجلاس اور راجیہ سبھا 252واں اجلاس اس لحاظ سے بھی خاص ہوگا کہ تقریباً تمام کام کاج پیپر لیس اور ڈیجیٹل ہوں گے،یہ پہلی بار ہوگا کہ جب پورے اجلاس کے دوران ایوان میں ہفتہ واری تعطیل نہیں ہوگی -یکم اکتوبرتک چلنے والے اجلاس میں 18نشستیں ہوں گی جن میں 45بل پیش کئے جائیں گے - دوسری طرف اپوزیشن پارٹیاں مودی کی قیادت والی بی جے پی حکومت کو مختلف ایشوز پر گھیرنے کیلئے تیار ہیں -اجلاس کے آغازسے ایک دن پہلے لوک سبھا اسپیکر اوم برلاکے نے ایوان زیریں کی بزنس ایڈوائزری کمیٹی (بی اے سی) کے اجلاس کی صدارت کی-ڈی ایم کے لیڈر ٹی آر بلو نے کہاہے کہ مانسون اجلاس کے ایجنڈے پر بحث میں اپوزیشن جماعتوں نے لوک سبھا میں ہند۔چینی افواج کے مابین معاشی صورتحال بے روزگاری اور تعطل کے معاملے پر بات چیت کا مطالبہ کیاہے-بلو نے کہاہے کہ ایوان کے قائدین سے ملاقات کے دوران، حزب اختلاف نے لائن آف ایکچول کنٹرول (ایل اے سی) پر ہندوستان - چین تعطل، بے روزگاری اور معاشی سست روی جیسے معاملات پرتبادلہ خیال کرنے کامطالبہ کیاہے-ڈی ایم کے لیڈرنے کہاہے کہ انہوں نے اوبی سی کے لیے کریمی لیئرمیں نظرثانی کرنے،ریاستوں کوجی ایس ٹی کے تحت جمع ہونے والے محصولات کا حصہ نہ دینے کے معاملے پربھی بات چیت کامطالبہ کیاہے-اس میٹنگ کے بعدبرلانے نامہ نگاروں کوبتایاہے کہ تمام پارٹیوں کے لیڈروں نے ایوان کی باضابطہ کارکردگی میں تعاون کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے-انہوں نے امید ظاہرکی ہے کہ لوک سبھا آسانی سے کام کر سکے گی-پارلیمانی امورکے وزیر پرہلاد جوشی کے ساتھ وزراارجن رام میگھوال اور وی مرلی تھرن نے بھی میٹنگ میں شرکت کی-جوشی نے کہاہے کہ حکومت ان تمام امورپربات کرنے کے لیے تیارہے جن کافیصلہ بی اے سی میں کیاجائے گا-انہوں نے کہاہے کہ یہ ملاقات خوشگوار ماحول میں ہوئی ہے اورپارلیمنٹ اجلاس کے ایجنڈے پر تبادلہ خیال کے لیے لیڈران ایوان منگل کوایک بارپھر ملاقات کریں گے-یہ پوچھے جانے پر کہ کیاحکومت بھارت چین تعطل پر ایل اے سی پر بات چیت کرنے کے لیے تیارہے،جوشی نے کہاہے کہ اس کا فیصلہ قومی سلامتی اورملک کے اسٹریٹیجک مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا جائے گا-ذرائع کے مطابق سابق صدرپرنب مکھرجی اورایک رکن پارلیمنٹ کے انتقال کے سبب پیر کو مختصر کارروائی کی جائے گی-ذرائع نے بتایاہے کہ اس کے بعد ایوان میں دوبل پربحث ہوسکتی ہے جنہیں راجیہ سبھاپہلے ہی منظور کرچکی ہے-منگل کوکووڈ- 19 وبائی امراض پربحث شروع ہوسکتی ہے-سینئر کانگریس لیڈر جے رام رمیش نے بھی اتوارکے روزکہاتھاکہ ان کی پارٹی لوک سبھااورراجیہ سبھا میں چین اور معیشت کی حالت کے ساتھ تعطل پر بات کرناچاہتی ہے-جے رام رمیش نے کہاہے کہ ہم چین کی سرحد، معیشت کی حالت، کاروبار کی بندش، ایم ایس ایم ای انڈسٹری کی حالت،کووڈ 19 وباسے نمٹنے، ہوائی اڈوں کی نجی کاری اورای آئی اے نوٹیفکیشن کے مسودے سمیت کچھ دیگر امور پربحث کرنا چاہتے ہیں -انھو ں نے کہاہے کہ ہمیں امیدہے کہ اپوزیشن کو قوم کے سنجیدہ امورپربولنے اورگفتگوکرنے کاموقع ملے گا-ہم توقع کرتے ہیں کہ وزیراعظم لوک سبھا اور راجیہ سبھامیں حاضر ہوں گے اور ان سوالوں کاجواب دیں گے جوہم اٹھاتے ہیں - وزیراعظم نہیں آتے ہیں اور ہم چاہتے ہیں کہ وہ لوک سبھااورراجیہ سبھا دونوں میں موجودہوں -


Recent Post

Popular Links