احمد آباد کے کووڈ اسپتال کا آئی سی یو شعلہ پوش مریض اور نیم طبی عملہ کے کئی افراد زخمی

RushdaInfotech August 7th 2020 urdu-news-paper
احمد آباد کے کووڈ اسپتال کا آئی سی یو شعلہ پوش مریض اور نیم طبی عملہ کے کئی افراد زخمی

احمد آباد۔6/اگست (یو این آئی) گجرات کے احمد آباد میں ایک پرائیویٹ اسپتال میں آج صبح سویرے پیش آئے آتشزدگی کے ایک بڑے حادثے میں 3 خواتین سمیت کم از کم آٹھ کورونا مریضوں کی موت ہوگئی۔نائب وزیراعلیٰ اور وزیر صحت نتن پٹیل نے بتایا کہ شہر کے قریبی پوش علاقے نورنگ پورہ میں واقع شریئے اسپتال کے آئی سی یو وارڈ میں صبح تین بجے کے قریب آگ لگی۔ اسے حکومت نے کورونا مریضوں کے علاج کیلئے وقف کیا ہوا تھا۔ پانچ منزلہ اسپتال کی بالائی منزل پر آگ لگی۔ اس واقعے میں علاج کیلئے وہاں داخل آٹھ کورونا مریضوں کی موت ہوگئی۔ آگ بجھانے کی کوشش کے دوران اسپتال کا ایک پیرا میڈیکل اہلکار بھی زخمی ہوا۔ وزیر اعلیٰ وجے روپانی نے آگ لگنے کی وجوہات اور پورے واقعے کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ اس کیلئے تشکیل دی گئی کمیٹی میں دو سینئر آئی اے ایس افسر بھی شامل ہیں۔مسٹر پٹیل نے بتایا کہ ابتدائی اندازوں کے مطابق آگ آئی سی یو کے کسی برقی آلے میں شارٹ سرکٹ کی وجہ سے لگی ہوگی۔ تحقیقات کیلئے تشکیل دی گئی کمیٹی تین دن میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی۔ آگ پر قابو پالیا گیا اور باقی 41 مریضوں کو سرکاری ایس وی پی اسپتال منتقل کردیا گیا۔ تقریباً 50 کورونا سے متاثرہ مریضوں کو اسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔اس واقعہ پر وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی غم کا اظہار کیا ہے اور ہلاک ہونے والوں اور زخمیوں کے لواحقین کے لئے مالی امداد کا اعلان بھی کیا ہے۔ وزیر اعظم ریلیف فنڈ سے جاں بحق افراد کے لواحقین کو دو لاکھ روپے اور زخمیوں کے لئے پچاس ہزار روپے کی مالی امداد فراہم کی جائے گی۔ وزیر داخلہ امیت شاہ نے بھی اس واقعے پر غم کا اظہار کیا ہے۔ مسٹر پٹیل نے کہا کہ ریاستی حکومت مرنے والے افراد کے لواحقین کو کم از کم چار لاکھ روپے کی امداد فراہم کرائے گی۔اس دوران ہلاک ہونے والوں کی شناخت نونیت شاہ (18)، لیلبین شاہ (72)، نریندر شاہ (51)، عارض منصوری (42)، اروند بھاوسار (72)، جیوتی سندھی (55)، منوبھائی رامی (82) اور بھاون شاہ کے (51) کے طور پر ہوئی ہے۔دوسری جانب واقعے کے بعد مریضوں کے گھر والوں نے اسپتال کے سامنے ہنگامہ کیا۔ یہ بھی الزامات ہیں کہ اس اسپتال کا فائر سیفٹی سسٹم صحیح نہیں تھا اور اس کا کچھ حصہ غیر قانونی طریقے سے بنایا گیا تھا۔ پولیس نے اسپتال کے چار میں سے ایک ٹرسٹی بھرت بھائی کو پوچھ گچھ کے لئے تحویل میں لے لیا ہے۔ فارنسک لیباریٹری (ایف ایس ایل) کی ٹیم اور فائر ڈپارٹمنٹ کے ماہرین کو بھی تحقیقات میں شامل کیا گیا ہے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج بھی یکجا کئے جارہے ہیں۔اس بات کا بھی خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ کورونا مریضوں کی موجودگی میں افرا تفری کے ماحول میں آگ بجھانے والے افراد بھی انفیکشن کا شکار ہوسکتے ہیں۔ ریاست کے کورونا انفیکشن کنٹرول سے وابستہ چیف سکریٹری راجیو گپتا نے بتایا کہ یہ اسپتال کورونا کے علاج کے لئے وقف ابتدائی پرائیویٹ اسپتالوں میں سے ایک ہے۔ اس میں 300سے زیادہ کورونا مریضوں کا کامیابی کے ساتھ علاج کیا گیا تھا۔ مرکزی اور ریاستی حکومت کے مقرر کردہ فائر سیفٹی معیارات کی جانچ کے بعد ہی اسے وقف کیا گیا تھا۔ دیگر پہلوؤں سے مزید تفتیش کی جائے گی۔ریاست میں اہم اپوزیشن کانگریس کے ریاستی صدر اور ایم ایل اے امیت چاوڑا نے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کیا اور الزام لگایا کہ سرکاری مشینری کی بدعنوانی کے سبب بھی اس طرح کے واقعات رونما ہو رہے ہیں۔
اس سے قبل گذشتہ برس مئی کے مہینے میں، سورت شہر میں ایک کوچنگ انسٹی ٹیوٹ کی غیر قانونی طور پر تیار عمارت میں آگ لگنے سے 20 سے زائد طلباء کی موت ہوگئی تھی۔ کسی اسپتال یا کسی بھی عوامی جگہ کی منظوری سے قبل فائر سیفٹی کی جانچ کی جاتی ہے اور بعد میں وقتاً فوقتاً اس کی جانچ کرنی چاہئے لیکن گجرات میں ایسا نہیں ہورہا ہے۔ادھر برسراقتدار بی جے پی کے ریاستی صدر اور رکن پارلیمنٹ سی آر پاٹل نے بھی واقعے پر رنج و غم کا اظہار کیا اور کہا کہ ریاستی حکومت نے واقعے کی مکمل تحقیقات کیلئے دو آئی اے ایس افسروں پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی ہے۔ اگر اس معاملے میں کوئی قصوروار پایا جاتا ہے تو اسے بخشا نہیں جائے گا۔دریں اثنا وزیر اعلیٰ وجے روپانی نے بھی اپنے امدادی فنڈ سے متوفیوں کے لواحقین کے لئے 4، 4 لاکھ اور زخمیوں کو 50، 50 ہزار کی مالی امداد کا اعلان کیا ہے۔واضح رہے کہ گجرات کے تقریباً 67 ہزار کورونا متاثرہ افراد میں سے 27 ہزار سے زیادہ صرف احمدآباد میں ہیں۔ اس وقت یہاں قریب 3500 فعال معاملات ہیں۔ اب تک اس شہر میں کل 2557میں سے 1617/ اموات ہوچکی ہیں۔

 


Recent Post

Popular Links