ہوائی سفر کرنے والے مسافروں کی تعدادمیں 85فیصد کمی لاک ڈاؤن ہٹادئے جانے کے باوجود فلائٹس کی اڑانوں میں اضافہ نہیں ہوسکا

RushdaInfotech August 1st 2020 urdu-news-paper
ہوائی سفر کرنے والے مسافروں کی تعدادمیں 85فیصد کمی لاک ڈاؤن ہٹادئے جانے کے باوجود فلائٹس کی اڑانوں میں اضافہ نہیں ہوسکا

بنگلور:31جولائی(سالار نیوز)کوروناوائرس کے پھیلنے سے قبل ہی ٹھپ شہری ہوابازی کا شعبہ لاک ڈاؤن کے بعد سے پوری طرح متاثر رہا،اب جبکہ لاک ڈاؤن کے شرائط وضوبط میں ڈھیل دی گئی ہے اس کے باوجود اس شعبہ میں کسی طرح کا سدھار نہیں آیاہے۔بنگلور کیمپے گوڑا انٹر نیشنل ایئر پورٹ (کے آئی اے)سے جون اور جولائی کے مہینے میں روزانہ سفر کرنے والوں کی تعداد 15ہزار کی حد پار نہیں کرسکی ہے۔مسافروں کی تعداد میں تقریباً85فیصد کمی آئی ہے۔اس سے قبل روزانہ ملک اور بیرونی ممالک سے تقریباً95ہزار سے زائد مسافر سفر کرتے تھے۔بنگلور کی طرح ہی دہلی،ممبئی، چینئی،پونے اور حیدرآباد شہر میں بھی کوروناوائرس کے مریضوں کی تعداد بہت ہے اور ہوائی سفر کرنے والوں کیلئے بنائے گئے کوارنٹائن کے قوانین میں اکثر تبدیلیاں لائے جانے کی وجہ سے لوگ ہوائی سفر کرنے سے خوف زدہ ہیں اور ہوائی سفر کرنے والوں کی تعداد میں غیر معمولی کمی آئی ہے اور اس سے ملک اور ریاست میں معاشی سرگرمیاں بھی ٹھپ ہوچکی ہیں۔آئی ٹی شعبہ،رئیل ایسٹیٹ،اینٹر ٹائن منٹ اور تجارت کے شعبے میں بھی کسی طرح کا سدھار نہیں آیا ہے۔ جس کے سبب لوگ ملک سے دوسرے ملک اور ایک شہر سے دوسرے شہر کا سفرکرنے میں دلچسپی ظاہر نہیں کر رہے ہیں اور ہوائی سفر کرنے والوں کی تعداد میں اضافہ نہیں ہورہاہے۔مسافروں کی کمی کی وجہ سے انڈیگو ایئر لائنس نے تقریباً 30فیصد ملازمین کو کام سے نکال دیاہے۔اطلاعات کے مطابق اکثر ایئر لائنس نقصان کی وجہ سے اپنے عملہ کوملازمت سے نکال رہی ہیں یاتو تنخواہوں میں کمی یا بغیر تنخواہ کے چھٹی پر روانہ کرنے پر مجبور ہیں۔ملک کی تمام ریاستوں کے بڑے شہروں میں کوروناوائرس کے معاملات بڑھتے جارہے ہیں، اسے دیکھنے سے پتہ چلتاہے کہ سال کے اخیر تک شہری ہوابازی کے شعبے میں سدھار نہیں آسکتا۔مکمل طور پر بین الاقوامی پروازوں کی اڑان کے لئے اَن لاک۔3کے دوران بھی موقع فراہم نہیں کیا گیاتھا،مگر بیرونی ممالک کے سفر کی مانگ زیادہ ہونے کی وجہ سے ایئر ببل فلائٹ کا انتظام کئے جانے کے بارے میں بات چیت کی جارہی ہے،مقررہ روٹس پر مقررہ فلائٹ اڑانے کی بجائے متعلقہ ممالک کے ساتھ معاہدہ کر کے جتنی ضرورت پڑے اس کے حساب سے فلائٹوں کا انتظام کرنے کے بارے میں معاہدہ کیا جارہاہے۔


Recent Post

Popular Links