راجستھان میں حکومت مستحکم،پریشان نہ ہوں۔ گہلوٹ

RushdaInfotech July 30th 2020 urdu-news-paper
راجستھان میں حکومت مستحکم،پریشان نہ ہوں۔ گہلوٹ

جے پور،29 جولائی (یواین آئی) راجستھان کے وزیر اعلیٰ اشوک گہلوٹ نے ایک بار پھر بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) پرریاستی حکومت کوغیر مستحکم کرنے کی سازش کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ مرکزی حکومت کے تعاون اور دولت کی طاقت سے سازش جاری رکھے ہوئے ہے لیکن پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے اور ان کی حکومت پورے پانچ سال تک مضبوطی سے چلے گی۔مسٹرگہلوٹ آج نومنتخب ریاستی کانگریس صدر گووند سنگھ ڈوٹاسرا کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی سازش جاری ہے۔ اس میں مرکزی حکومت تعاون کررہی ہے، بی جے پی سازش کررہی ہے اور یہ سب دولت کی مدد سے کیا جارہا ہے، لیکن پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، حکومت مستحکم ہے۔انہوں نے کہا کہ اسمبلی بلانے کے مطالبہ اپوزیشن کرتا ہے، لیکن راجستھان میں یہ مطالبہ حکومت کررہی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے اندر آگے کا مقابلہ کرنے کی طاقت ہے، ہم کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے اور حکومت پانچ سال تک مضبوطی سے چلے گی۔ انہوں نے یہ کہتے ہوئے کہ عالمی وباکورونا دور میں لوگوں کی جان بچانا اولین ترجیح ہے، انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ سے ایک طرف زندگی کا بحران ہے اوروہیں بی جے پی سرکار ان کی حکومت گرانے میں مصروف ہے۔ آنے والے وقت میں کورونا کی وبا مزید بڑھ سکتی ہے۔ یہ زندگی بچانے کا سوال ہے،اسے ہم نبھا رہے ہیں لیکن بی جے پی حکومت سرکار گرانے کی سازش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ21 دن ہوں یا 31 دن جیت ہماری ہی ہوگی۔گہلوٹ نے کہا کہ وہ راج بھون کو چھ صفحات پر مشتمل خط لکھ رہے ہیں، سی بی آئی، انکم ٹیکس اور ای ڈی (انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ) کا غلط استعمال کیا جارہا ہے، چھاپے کیلئے منتخب نام دیئے گئے اور چھاپے مارے گئے۔انہوں نے کہا کہ اب ماحول بدل گیا ہے، ملک اور ریاست کے عوام دیکھ رہے ہیں کہ اسمبلی سیشن بلانے سے کیوں منع کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گورنر کس کے اشارے پرکام کررہے ہیں، وہ سب کچھ جانتے ہیں۔ ان حالات میں ہم یہاں بیٹھے ہیں، ورنہ آج یہ پروگرام کسی میدان میں ہوتا۔مسٹر گہلوٹ نے کہا کہ ہم جیتیں گے اور جن لوگوں نے دھوکہ دیا ہے وہ کانگریس ہائی کمان سے معافی مانگیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں ہوٹل جانے کا غم نہیں ہے لیکن حالات کی وجہ سے انہیں مجبوری میں جانا پڑا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کا سہ روزہ اجلاس بلایا جانا چاہئے۔ اس اجلاس میں حکومت کی تنقید کی جاتی ہے، وزیر اعلیٰ اور ریاستی کانگریس کے صدر کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، اس سے کوتاہیوں کو دور کرنے کا ایک موقع ملتا ہے۔اس موقع پرریاستی کانگریس کے انچارج اویناش پانڈے نے کہا کہ جس طرح کئی ریاستوں میں سرکاریں ہٹائی گئیں اسی طرح کی کوشش راجستھان میں بھی کی جارہی ہے لیکن یہاں عوام اور اشوک گہلوٹ کی قیادت نے جدوجہد کو اور بھی مستحکم کردیا ہے۔


Recent Post

Popular Links