نئی تعلیمی پالیسی کے ساتھ ایچ آر ڈی کا نام بدل کر وزارت تعلیم

RushdaInfotech July 30th 2020 urdu-news-paper
نئی تعلیمی پالیسی کے ساتھ ایچ آر ڈی کا نام بدل کر وزارت تعلیم

نئی دہلی، 29جولائی (یو این آئی) مرکزی کابینہ نے زیرانتظار نئی تعلیمی پالیسی کو آخر کار چہارشنبہ کو منظوری دے دی اور نئی تعلیمی پالیسی میں انسانی وسائل کو فروغ کی وزارت کا نام بدل کر وزارت تعلیم کردیاگیا ہے ملک کو تقریباً 34سال بعد ایک بار پھر نئی تعلیمی پالیسی ملی ہے۔ وزیراعظم نریندرمودی کی صدارت میں ہوئی کابینہ کی میٹنگ میں اس پالیسی کو منظوری دی گئی۔ میٹنگ میں انسانی وسائل کے فروغ کے وزیر ڈاکٹر رمیش پوکھریال نشنک بھی موجود تھے۔ڈاکٹر نشنک نے کابینہ کی میٹنگ کے بعد نامہ نگاروں سے کہا کہ وزیراعظم کی نئے ہندوستان کی تعمیر میں نئی تعلیمی پالیسی میل کا پتھرثابت ہوگی۔ ملک کی تاریخ میں ایسا پہلی بار ہوا ہے کہ اتنے وسیع پیمانہ پر کسی پالیسی کو بنانے کے لئے ملک کے کونے کونے سے والدین اور گاؤں کی کمیٹیوں، عوامی نمائندوں سے تبادلہ خیال کیا گیا ہو اور اس کے بعد نئی تعلیمی پالیسی کا خاکہ تیار کیا گیا ہے۔ ملک کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہورہا ہے۔نئی تعلیمی پالیسی میں نیشنل ایجوکیشن کمیشن، نیشنل ریسرچ فاؤنڈیشن کے قیام کے علاوہ جدید جسمانی تعلیم، یوگ، کھیل کود اور آرٹ پر بھی زور دیا گیا ہے اور تین برس سے 18برس تک کے طلبا پر توجہ دی گئی ہے۔خیال رہے کہ جب پچھلی حکومت میں جب محترمہ اسمرتی ایرانی انسانی وسائل کے فروغ کی وزیر بنی تھیں تب سے نئی تعلیمی پالیسی بنانے کا عمل شروع ہوا اور اس طرح تقریباً چھ برس بعد اس تعلیمی پالیسی کو حتمی شکل دی گئی اور آخرکا ر مودی کابینہ نے اس پر اپنی مہر لگا دی۔اس سے پہلے سابق وزیراعظم راجیو گاندھی نے 1986میں اپنی مدت کار میں نئی تعلیمی پالیسی بنائی تھی۔ 1992میں اس میں ترمیم کی گئی۔ ملک میں اس درمیان تعلیم کے شعبہ میں آئی تبدیلی کے پیش نظر حکومت نے کئی تعلیمی پالیسیاں بنائیں تاکہ بدلے ہوئے حالات میں خاص طورپر تکنالوجی میں آئی تبدیلی میں ڈجیٹل تعلیم اور انوویشن کو شامل کیاجاسکے۔پہلے سابق کابینی وزیر ٹی ایس آر سبرامنیم کی صدارت میں ایک کمیٹی نے اپنی عبوری رپورٹ سونپی لیکن ان کا محترمہ ایرانی سے تنازعہ ہوگیا اور وہ رپورٹ عوامی نہیں ہوئی۔ اس کے بعد ہندوستانی اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن کے چیرمین کستوری رنگن کی سربراہی میں ایک کمیٹی بنائی گئی جس نے گزشتہ برس اپنی رپورٹ دے دی تھی۔


Recent Post

Popular Links