یورپی خلائی جہاز کو مریخ پر گرد کے طوفان کا سامنا

یورپی خلائی جہاز کو مریخ پر گرد کے طوفان کا سامنا

یورپی خلائی گاڑی سکیاپریلی کو مریخ پر اترنے کے بعد گرد کے طوفان کا سامنا کر پڑ سکتا ہے۔یہ مریخ گاڑی سرخ سیارے کے میریڈیانی میدان پر اترنے کی کوشش کرے گی۔امریکی سائنس دانوں کے مطابق ریت کے ذرے جلد ہی مریخ کی فضا میں اٹھنا شروع ہو جائیں گے، تاہم یورپی خلائی ادارے نے کہا ہے کہ اسے اس کی فکر نہیں ہے۔ بلکہ اس کے بعض سائنس دان اس امکان سے خوش بھی نظر آتے ہیں۔ادارے کے پروجیکٹ سائنٹسٹ خورخے واگو نے بی بی بی سی کو بتایا: 'ہمیں شروع سے معلوم تھا کہ ہم گرد کے طوفان میں مریخ پہنچیں گے اور سکیاپریلی کو یہی امکان ذہن میں رکھتے ہوئے بنایا گیا تھا۔'گردآلود فضا سے برقی ڈیٹا حاصل کرنے کے نقطہ نظر سے یہ بات بہت عمدہ ہے۔'امریکی خلائی ادارے نے گذشتہ ہفتے ممکنہ طوفان کا تصور پیش کیا تھا جو بڑھ کر تمام سیارے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے، تاہم اس طوفان کے کئی ہفتوں تک اس قدر پھیلنے کا امکان نہیں ہے۔اس کے باوجود یورپی سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ وہ ہر صورت میں تیار ہیں۔ مریخ کی فضا میں گرد سے رگڑ کھا کر سکیاپریلی کی گرمی سے بچانے والا حفاظتی خول متاثر ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ اس کا بڑا پیراشوٹ بھی متاثر ہو سکتا ہے جس کی مدد سے یہ میریڈیانی میدان میں اترے گی۔ البتہ اس صورتِ حال کی زمین پر پہلے ہی جانچ پڑتال کر لی گئی تھی۔تیز ہواؤں سے لاحق خطرہ بھی زیادہ نہیں ہے کیوں کہ میریڈیانی خاصا وسیع و عریض میدان ہے اور گاڑی اترتے وقت ہدف سے تھوڑا ادھر ادھر بھی ہو جائے تب بھی زیادہ مسئلہ نہیں ہو گا۔فلائٹ ڈائریکٹر مچل ڈینس نے کہا: 'صرف ایک چیز جو متاثر ہو سکتی ہے وہ ہے اترتے وقت لی جانے والی تصاویر کا معیار۔ اگر گرد زیادہ ہوئی تو ہمیں سطح زیادہ بہتر طریقے سے نظر نہیں آئے گی۔'سکیاپریلی 600 کلوگرام وزنی مریخ گاڑی ہے جس میں متعدد آلات نصب ہیں۔ یہ مریخ پر اترنے کی دوسری یورپی کوشش ہے۔ اس سے قبل 2003 میں بیگل 2 اترنے کے بعد خرابی کا شکار ہو گئی تھی۔سکیاپریلی یورپی خلائی ادارے کے ایگزومارز مشن کا حصہ ہے جس کا مقصد سرخ سیارے پر قدیم یا حالیہ زندگی کے آثار کا جائزہ لینا ہے۔ اس کے علاوہ یہ مریخ کی فضا اور ارضیات کا بھی تجزیہ کرے گی۔
امریکہ مریخ پر انسان بھیجنے کے لیے نجی کمپنیوں کے ساتھ کام کرے گا
امریکی صدر براک اوباما کے مطابق امریکہ 2030 تک مریخ پر انسانوں کو بھیجنے کے منصوبے کے لیے نجی کمپنیوں کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔ صدر اوباما نے 2010 میں سرخ سیارے پر انسانی مشن بھیجنے کی تجاویز کا اعلان کیا تھا۔ لیکن اس وقت صدر اوباما کے منصوبے پر بالخصوص کانگریس کی جانب سے خاصی تنقید ہوئی تھی۔صدر اوباما نے امریکی ٹیلی ویژن سی این این کے لیے لکھے جانے والے ایک مضمون میں مریخ پر انسانی مشن کے لیے نجی کمپنیوں کی شراکت داری کے عزم کو دہراتے ہوئے کہا: 'ہم نے ایک واضح ہدف مقرر کیا ہے جو خلا میں امریکی تاریخ کی کہانی کے آئندہ باب کے لیے نہایت اہم ہے، جس میں 2030 تک انسانوں کو مریخ پر بھیجنا اور پھر وہاں سے واپس زمین پر بحفاظت پہنچانا ہے۔ اس میں فیصلہ کن جذبہ یہ ہے کہ کسی دور میں وہ وہاں لمبے عرصے تک قیام کریں۔'صدر اوباما کے نجی کمپنیوں کی شراکت سے مریخ پر جانے کا بیان حیران کن نہیں ہے کیونکہ اس وقت امریکی خلائی ادارہ ناسا نجی کمپنیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے جس میں بین الاقوامی خلائی سٹیشن کو سامان کی ترسیل شامل ہے۔اس میں خاص کر سپیس ایکس نامی کمپنی شامل ہے جس کا ڈریگن نامی خلائی جہاز بین الاقوامی خلائی سٹیشن پر سامان پہنچا چکا ہے اور وہ مریخ تک جانے کا ارادہ رکھتا ہے۔امریکی صدر نے اپنے مضمون میں مزید لکھا: 'مریخ تک پہنچنے کے لیے ہمیں تسلسل سے حکومت اور جدت کے لیے کام کرنے والے نجی شعبے کے درمیان تعاون درکار ہے اور ہم پہلے ہی درست راستے پر ہیں۔'
کام کے بوجھ سے ہر پانچویں ملازم کو موت کا خطرہ
جاپان میں حکومت کی جانب سے کیے گئے ایک سروے میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ 20 فی صد ملازمین کو کام کے بوجھ سے موت کا خطرہ ہے۔ خیال رہے کہ جاپان حد سے زیادہ محنت کے کلچر کے لیے بدنام رہا ہے۔جاپان میں حد سے زیادہ کام کرنے کے تعلق سے ہر سال سینکڑوں اموات ہوتی ہیں جن میں دل کا دورہ اور خودکشی کے علاوہ دیگر بہت سے صحت کے مسائل شامل ہیں۔ اور اس کے سبب قانونی چارہ جوئی کے واقعات اور اس مسئلے کے حل کے مطالبات میں اضافہ ہوا ہے۔’کاروشی‘ یعنی کام کے بوجھ سے ہونے والی اموات کے معاملے یہ پہلا قومی سروے ہے اور وزیر اعظم شنزو ابے کی کابینہ نے اس کی تصدیق کی ہے۔اگرچہ جاپان کے تنخواہ پانے والے ملازمین کے حالات بدل رہے ہیں تاہم وہ دوسری جدید معیشت والے ممالک کے مقابلے ابھی بھی زیادہ وقت دفتر میں گزارتے ہیں۔پہلے ان کی یہ شبیہ تھی کہ وہ دیر تک کمپنی کا کام کرتے اور آخری ٹرین سے گھر واپس لوٹتے۔سروے کے مطابق گذشتہ سال دسمبر اور رواں سال جنوری کے درمیان جن کمپنیوں میں سروے کیا گیا ان میں سے 7۔22 فی صد کمپنیوں میں یہ بات سامنے آئی کہ ان کے بعض ملازمین نے مہینے میں 80 گھنٹے سے بھی زیادہ اوور ٹائم کام کیا ہے۔ یہ وہ سرکاری حد ہے جس کے بعد کام کی وجہ سے موت کے سنگین حالات پیدا ہو جاتے ہیں۔رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ تقریباً 3۔21 فی صد افراد ہر ہفتے اوسطاً 49 گھنٹے سے زیادہ کام کرتے ہیں اور یہ اوسط امریکہ کے 4۔16 فی صد، برطانیہ کے 5۔12 فی صد اور فرانس کے 4۔10 فی صد سے بہت زیادہ ہے۔سروے میں یہ بھی بات سامنے آئی کہ جاپان کے تنخواہ دار ملازمین پر کام کا سخت دباؤ رہتا ہے۔ 



Like us to get latest Updates