صومالیہ:تباہ کن دھماکہ میں 231ہلاک 250 سے زیادہ افراد زخمی ۔حکومت کو الشباب پر شبہ

صومالیہ:تباہ کن دھماکہ میں 231ہلاک 250 سے زیادہ افراد زخمی ۔حکومت کو الشباب پر شبہ

موغادیشو۔15اکتوبر(اے پی/پی ٹی آئی) صومالیہ کے صدر مقام موغادیشو میں ہوئے سب سے طاقتور بم دھماکہ میں مہلوکین کی تعداد 231 کو پہنچ چکی ہے ۔ اس میں دیگر 250 سے زیادہ زخمی بھی ہوئے ہیں۔ یہ اس افریقی ملک میں اب تک کا سب سے تباہ کن واحد دھماکہ بن چکا ہے ۔پولیس اوراسپتال ذرائع نے آج یہاں اس بات کی اطلاع دی۔ بری طرح زخمی لوگوں کے علاج میں ڈاکٹروں کو کافی جدوجہد کرنی پڑ رہی ہے جن میں سے بعض اس قدر جھلس گئے ہیں کہ شناخت بھی ناممکن ہوکر رہ گئی ہے ۔حکام کو خدشہ ہے کہ اس ٹرک بم دھماکہ سے مہلوکین کی تعداد مزید بڑھ جائے گی۔ یہ دھماکہ اہم وزارتوں سے قریب والی مصروف سڑک کو نشانہ بناکر کیا گیا تھا۔ مہلوکین کی اس تعداد کے بارے میں ذرائع نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر یہ بتایا اورکہاکہ انہیں اخبار نویسوں سے بات کرنے کا اختیارنہیں ہے ۔ ایمبولینس کے سائرنوں کی گونج اب بھی پورے شہر میں گونج رہی ہیں جبکہ پریشان لوگ عمارتوں کے ملبہ کی طرف اپنے رشتے داروں کی تلاش میں حسرت وامید سے دیکھ رہے ہیں۔ اس حملے میں کئی بسیں اور ایک سو سے زائد کاریں بھی تباہ ہوئی ہیں۔ صومالی وزیر اطلاعات عبدالرحمٰن یاریسو نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے اس کی ذمہ داری الشباب نامی عسکری گروپ پر عائد کی ہے۔ تاہم ابھی تک کسی گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔ بارود سے بھرے ہوئے ٹرک سے کیا گیا خود کش حملہ اتنا شدید تھا کہ دور دور تک عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے ہیں۔2007 میں اسلام پسندوں کی شورش کے آغاز کے بعد ہوئے مہلک ترین حملوں میں سے ایک ہے ۔پولیس نے بتایا کہ5Kانٹرسیشکن پر واقع ایک ہوٹل کے باہر دھماکہ خیز مادوں سے بھرے ایک ٹرک میں دھماکہ ہونے سے متعدد عمارتیں زمیں بوس ہوگئیں اور درجنوں گاڑیوں میں آگ لگ گئی۔ یہ دھماکہ جس جگہ ہوا وہاں سرکاری دفاتر ، ریستوراں اور چھوٹی موٹی دکانیں ہیں۔ اس دھماکے کے دو گھنٹے بعد دارالحکومت کے مدینہ ضلع میں دوسرا دھماکہ ہوا۔ ایک پولیس اہلکار محمد حسین نے بتایا کہ ان دونوں دھماکوں میں85افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ100دیگر زخمی ہوئے ہیں۔ پولیس نے اس سے قبل مرنے والوں کی تعداد22بتائی تھی۔ابھی تک کسی نے ان دھماکوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے لیکن القاعدہ کا اتحادی گروپ الشباب اکثر وبیشتر اس طرح کے حملے کرتا ہے ۔آمین ایمبولینس سرویس نے ٹوئٹ کیا ہے ’’اپنی 10 سالہ سرویس میں اتنا تباہ کن دھماکہ نہیں دیکھا۔‘‘ 4بچوں کی ماں زینب شریف نے جس کا شوہر اس دھماکہ میں مارا گیا ہے ،روتے ہوئے کہا ’’کہنے کے لئے میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے ۔میں نے اپنا سب کچھ کھودیا ہے ۔‘‘ وہ ایک اسپتال کے سامنے بیٹھی آہ وزاری کررہی تھی جہاں اس کے زخمی شوہر کولاکھ کوشش کے باوجود ڈاکٹر بچا نہیں سکے۔ صومالیہ کے صدر محمدعبداﷲ محمد نے 3روزہ قومی سوگ کا اعلان کرتے ہوئے کہاکہ وہ ہزاروں عوام کے غم میں برابر کے شریک ہیں ۔اس موقع پر زخمیوں کے لئے خون کی کافی ضرورت ہے ۔انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ زیادہ تعداد میں آگے آئیں اور خون کا عطیہ دے کر جانیں بچائیں ۔ اسی دوران بچاؤکار ملبوں میں پھنسے لوگوں کو نکالنے کے لئے مسلسل کوششوں میں لگے ہوئے ہیں ۔حکومت صومالیہ نے اس دھماکہ کیلئے القاعدہ سے جڑی تنظیم الشباب کو مورد الزام ٹھہرایا اور اسے ایک قومی تباہی کہا ہے ۔ لیکن اسی طرح کے اہم ٹھکانوں پر بم دھماکوں کے لئے ذمہ دار اس تنظیم نے اب تک کچھ نہیں کہا ہے ۔ وزیراعظم حسن علی خیری نے کہا ’’ان لوگوں کو انسانی جانوں کے اتلاف، ماؤں، بچوں اور بزرگوں کی کوئی پروا نہیں ہے۔ انہوں نے موغادیشو کے سب سے زیادہ آبادی والے علاقہ کو نشانہ بنایا ہے ۔‘‘ اقوام متحدہ نے بھی اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے اسے ایک بزدلانہ حرکت قرار دیا ہے ۔ یاد رہے امریکی افواج نے الشباب کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ڈرون حملے بھی کئے ہیں ۔



Like us to get latest Updates