مسلمان، دلت اور پچھڑے طبقات متحدہوں تو 2019ء میں فرقہ پرستوں کی شکست یقینی:گناناپرکاش بنگلور میں پی ایف آئی کے ’’ہمیں بھی کچھ کہنا ہے‘‘ موضوع پر منعقدہ کامیاب کانفرنس سے کئی مقررین کے جامع خطابات

مسلمان، دلت اور پچھڑے طبقات متحدہوں تو 2019ء میں فرقہ پرستوں کی شکست یقینی:گناناپرکاش بنگلور میں پی ایف آئی کے ’’ہمیں بھی کچھ کہنا ہے‘‘ موضوع پر منعقدہ کامیاب کانفرنس سے کئی مقررین کے جامع خطابات

بنگلورو:15؍اکتوبر(قادری۔سینئررپورٹر) پاپولر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی) کے زیر اہتمام شہر کے پیالیس گراؤنڈ میں ’’ہمیں بھی کچھ کہناہے‘‘ کے مرکزی موضوع پر عظیم الشان کانفرنس کا اہتمام کیاگیا، جس میں ریاست اور پڑوسی ریاستوں کے گوشہ گوشہ سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ شریک تھے۔ اس موقع پر اپنے خطاب میں میسور کے گنانا پرکاش سوامی جی نے کہاکہ ملک کو فسطائی طاقتوں کے چنگل سے آزاد کرنے اور فرقہ پرست جماعتوں کے ہندوتوا ایجنڈے کو ناکام کرنے کے لئے مسلمان، دلت اور پچھڑے طبقات کو متحد ہونے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر مذکورہ طبقات متحد ہوجائیں تو ملک میں تبدیلی اور 2019ء میں فرقہ پرست طاقتوں کا زوال یقینی ہے۔ انہوں نے کہاکہ اگر مذکورہ طبقات فرقہ پرست جماعتوں کو سبق سکھائیں تو لال قلعہ پر راج ان کا ہوگا۔ ٹیپوسلطان شہیدؒ کو ملک کی آزادی کے اولین مرد مجاہد قرار دیتے ہوئے کہاکہ ٹیپو سلطان جیسے سکیولر حکمران کی قربانیوں کا نتیجہ ہے کہ آج ملک آزاد ہواہے۔ لیکن افسوس کے نریندرمودی کی زیر قیادت فرقہ پرست حکومت اس ملک میں امن وسلامتی کی فضاء کو عام کرنے کی بجائے قتل اور ظلم کو بڑھاوا دینے میں دلچسپی دکھارہی ہے۔ اپنے جائز حقوق کے لئے آواز اٹھانے والی زبانوں کو گولیوں سے ختم کیاجارہاہے۔ مودی کی یہ بربریت زیادہ دنوں تک چلنے والی نہیں ہے۔ اگر اس کو ختم کرنا ہے تو دلتوں اور پچھڑے طبقات کو ایک پلاٹ فارم پر آنے کی اشد ضرورت ہے۔ سوامی جی نے کہاکہ ہندوستان کو خونخوار قاتلوں کے پنجہ استبداد میں جانے کا خدشہ لاحق ہوگیاہے۔ بیلوں کو ذبح کرنے والوں کو قید کیا جارہاہے اور انسانوں کوقتل کررہے افراد کی عزت افزائی ہونے لگی ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ ملک بیلوں کا نہیں بلکہ آدمیوں کاہے۔ دلت مسلمان اور پسماندہ طبقات کو اپنے اندر تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔ بی جے پی نے پہلے کانگریس مکت بھارت کا نعرہ دیا۔ وہ دن دور نہیں جب بی جے پی یہ کہنے لگی کہ مسلم، جین اور بودھ مکت بھارت ہو۔ انہوں نے کہاکہ ہندوستان کی آزادی کے لئے جدوجہد کرنے والے ملک کے اولین مرد مجاہد حضرت ٹیپو سلطان شہیدؒ کے مجسمہ کو دہلی کے لال قلعہ کے اوپر ہونا چاہئے تھا۔ ٹیپو سلطان نے ملک کی آزادی کے لئے اپنی اولاد کو رہن رکھ دیا تھا۔ ملک کی آزادی کے لئے جدوجہد کرنے والے مہاتما گاندھی، سبھاش چندربوس، بھگت سنگھ کو دی جانے والی عزت ٹیپو سلطان کو دی جانی چاہئے۔ انہوں نے کہاکہ آج امیت شاہ اپنے بیٹے کو بچانے کے لئے ملک کو رہن رکھنے پر آمادہ نظر آرہے ہیں۔ پاپولر فرنٹ آف انڈیا کو ملکی سطح کی ایک عوامی تحریک قرار دیتے ہوئے سوامی گنانا پرکاش نے کہاکہ یہ تنظیم دہشت گرد سرگرمیوں کو بڑھانے والی تنظیم نہیں ہے۔ بلکہ سماج کے مظلوم افراد کو ان کے جائز حقوق کے لئے آواز اٹھانے والی تنظیم ہے۔ اس کو مزید طاقتور بنانے کی انہوں نے آواز دی۔ پی ایف آئی کے قومی صدر ای ابوبکر نے کانفرنس کا افتتاح کرنے کے بعد اپنے خطاب میں کہاکہ مسلمانوں، دلتوں اور کمزور طبقات کے درمیان تشدد کو بڑھاوا دینے کے لئے فرقہ پرست طاقتیں جو حربے استعمال کرنے لگی ہیں انہیں اس میں ہرگز کامیابی ملنے والی نہیں ہے اور یہ فرقہ پرست جماعتیں اپنے ناپاک عزائم میں کامیاب نہیں ہوں گی۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ حالات میں ملک کے لئے سب سے بڑا خطرہ فرقہ پرست فسطائیت ہے۔ اس لئے ملک کے تمام ذمہ دار شہریوں اور طبقات کے اوپر یہ لازم ہے کہ وہ ملک کو فسطائیت کے شکنجوں سے محفوظ رکھنے کے لئے متحدہ طورپر قدم بڑھائیں۔ انہوں نے کہاکہ فرقہ پرست فسطائی طاقتیں اور ان کی ماتحت کام کررہی این آئی اے جیسی ایجنسیاں اور اقلیتوں کے تئیں تعصب رکھنے والے چند میڈیا گھرانوں کے ذریعہ پی ایف آئی کی سرگرمیوں کو روکنے اور اس پر پابندی عائد کرنے کی کوششوں میں ہیں۔ لیکن تنظیم جمہوری و قانونی طریقوں سے مقابلہ کرتے آرہی ہے اور اس میں کامیابی بھی مل رہی ہے۔ پی ایف آئی کو دہشت پسند تنظیم قراردینے کی فرقہ پرست جماعتوں کے الزام پر ای ابوبکر نے کہاکہ ان کی تنظیم ہمیشہ سے مظلومین کو ان کے جائز حقوق فراہم کرنے اور انہیں خوشحال زندگی گزارنے کے راستہ ہموار کرنے کی کوشش اور جدوجہد کرتی آرہی ہے۔ اس کو آخری سانس تک جاری رکھی جائے گی۔ گوری لنکیش کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی نمناک آنکھوں سے ای ابوبکر نے کہاکہ تنظیم کی تمام سرگرمیوں میں ساتھ دینے والی گوری لنکیش کا خون رائیگاں ہونے نہیں دیا جائے گا۔ پی ایف آئی فرقہ پرستوں کے منصوبوں کو ناکام کرنے کے لئے میدان میں اترے گی۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے قومی سکریٹری مولانامحمد عمرین معروف رحمانی نے کہاکہ فرقہ پرست طاقتیں پی ایف آئی پر شکنجہ کسنے کی کوشش کررہی ہیں۔ لیکن اس میں کامیابی ہرگز ملنے والی نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ ظلم کے خلاف متحد ہوکر آواز اٹھانے کی ضرورت ہے اور پی ایف آئی کو مزید طاقتور بنانے کے لئے ہر ایک کا تعاون بھی ضروری ہے۔ کرناٹک مائنارٹی کمیشن کے چیرمین نصیر احمد نے کہاکہ پی ایف آئی نے ہمیشہ مصیبت زدہ اور پریشان حال افرا دکی مدد کے لئے پہل کی ہے،اور فرقہ پرست طاقتوں کے خلاف ڈٹ کر مقابلی کرنے والی تنظیم ہے۔ایسی تنظیم کیلئے متحدہ طورپر بھر پور تعاون ضروری ہے۔انہوں نے انصاف اور حق کے لئے دور اندیشی سے کام کرنے پر زور دیا۔ایس ڈی پی آئی کے ریاستی صدر عبدالحنان نے اپنے خطاب میں کہا کہ اس ملک کو آزادی قربانیوں سے ہی ملی تھی،اور آئندہ ترقی بھی قربانیوں سے ہی ملے گی۔انہوں نے کہاکہ قومی تفتیشی ایجنسی مرکزی حکومت کی ایجنٹ کے طورپر کام کرنے لگی ہے۔اس کے علاوہ کچھ میڈیا والے بھی پی ایف آئی کو نشانہ بناتے ہوئے اس پر پابندی عائدکرنے کی مانگ کرنے لگے ہیں۔انہوں نے کہا کہ میڈیا سلگتے مسائل پر بحث ومباحثہ کرنے کے بجائے اذان،برقع اور گائے پر بحث ومباحثہ کے ذریعہ اپنی ٹی آر پی حاصل کرنے میں دلچسپی دکھارہاہے۔سابق ریاستی وزیر بی ٹی للیتا نائک نے کہاکہ ملک میں یکجہتی اور بھائی چارہ کو بڑھاوا دینے میں پی ایف آئی اہم رول اداکرتے آرہاہے۔انہوں نے کہاکہ وہ شروع ہی سے اس تنظیم سے جڑی ہوئی ہیں۔کبھی بھی انہوں نے مخالف سرگرمیوں کو کرتے ہوئے نہیں دیکھاہے۔اس موقع پر انہوں نے گزارش کی کہ سینئر صحافی گوری لنکیش کے خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے متحدہ طورپر کام کریں۔ پی ایف آئی کے سابق چیرمین کے ایم شریف نے کہاکہ ملک کی آزادی کے بعد سے ملک میں اس طرح کا ماحول کبھی نہیں دیکھا گیا۔ فرقہ پرست جماعتیں ملک میں ہندوتوا کو بڑھاوا دینے کی کوشش کرنے لگی ہیں۔ اس مقصد سے ملک کے مسلمانوں کو دہشت گرد قراردینے لگی ہیں۔ لیکن پی ایف آئی ان فرقہ پرست طاقتوں کے عزائم میں کامیاب ہونے ہرگزنہیں دے گی۔ انہوں نے کہاکہ مسلم تنظیموں کو بلاوجہ نشانہ بنانے کے حربے استعمال ہونے لگے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پی ایف آئی پر دہشت گرد سرگرمیوں کو بڑھاوا دینے، لوجہاد، آئی ایس آئی ایس آئی کے لئے کارکنان کو فراہم کرنے کے جوالزامات لگائے گئے تھے۔ اس میں بھی فرقہ پرست جماعتوں کا ناکامی ہوئی ہے۔ اس موقع پر مولانا محمد مقصود عمران رشادی کے علاوہ دیگر اہم شخصیات نے بھی خطاب کیا۔ قبل ازیں پی ایف آئی کے ریاستی جنرل سکریٹری یاسر حسین نے استقبالیہ تقریر کی اور کہاکہ اس ملک کے مفادات کی خاطر جو آواز اٹھائی جاتی ہے۔ اس کو فرقہ پرست طاقتیں ختم کرنے کیلئے جان توڑ کوششیں کرنے لگی ہیں۔ اس لئے ملک کی سکیولر ذہنیت رکھنے والے افراد کو متحد ہوکر ان فرقہ پرست جماعتوں کا منہ توڑ جواب دیاچاہئے۔ اس موقع پر انہوں نے تمام مہمانوں کا تعارف کرایا اور خیرمقدم کیا۔ جناب ابراہیم نفیس نے نظم پیش کی۔ اس کانفرنس میں اپنی مصروفیات کی وجہ سے سابق وزیراعظم دیوے گوڈا، امیرشریعت کرناٹک مولانا محمدصغیر احمد خان رشادی اور سابق مرکزی وزیر آسکر فرنانڈیز شرکت نہیں کرپائے۔ لیکن مذکورہ تینوں اہم شخصیات نے اپنے پیغامات جو روانہ کئے تھے انہیں پڑھ کر سنایا گیا۔ کانفرنس کی صدارت پی ایف آئی کے ریاستی صدر محمد ثاقب نے کی۔



Like us to get latest Updates