راجیہ سبھا کی رکنیت سے مستعفی ممتا بنرجی سے مکل رائے کی 20سالہ رفاقت ختم

راجیہ سبھا کی رکنیت سے مستعفی ممتا بنرجی سے مکل رائے کی 20سالہ رفاقت ختم

کلکتہ؍11اکتوبر(یو این آئی )ایک زمانے میں ممتا بنرجی کے قریبی رہے ترنمول کانگریس کے سابق نائب صدر مکل رائے نے آج نائب صدر جمہوریہ وینکیا نائیڈو کو راجیہ سبھا کی رکنیت سے اپنا استعفیٰ نامہ سونپ دیا ہے ۔مکل رائے نے استعفیٰ دینے کے بعد کہا کہ میں دکھے دل کے ساتھ راجیہ سبھا کی رکنیت سے استعفیٰ دیا ہے ۔ ترنمول کانگریس میں پہلے دن سے ہوں بلکہ الیکشن کمیشن میں ترنمول کانگریس کیلئے درخواست میں نے دی تھی اور 17دسمبر 1997کو پارٹی کا رجسٹریشن میرے نام پر آیا تھا ۔1998میں ترنمول کانگریس نے بی جے پی سے اتحاد کیا اور ممتا بنرجی بی جے پی کی قیادت والی حکومت میں وزیر ریلوے بھی بنیں ۔2007تک ہم یہ دعوی ٰ کرتے رہے کہ بی جے پی فرقہ پرست جماعت نہیں ہے اور ممتا بنرجی کی ہدایت پر ہی میں نے آر ایس یس کے لیڈروں سے ملاقات کی تھی۔وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی سے 20سالہ رفاقت کا خاتمہ کرتے ہوئے 63سالہ مکل رائے نے کہا کہ 2004میں ممتابنرجی کی ہدایت پر ہی سنگھ پریوار لیڈروں سے کلکتہ میں ملاقات کی گئی تھی ۔خود ممتا بنرجی نے بھی وشو ہندو پریشد کے لیڈر اشوک سنگھل سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی تھی ۔اپنے مستقبل کے بارے میں مکل رائے نے کہا کہ میں اس وقت کسی بھی سیاسی جماعت میں نہیں جارہا ہوں اور اس کا فیصلہ آنے والے دنوں میں ہوگا۔میں نے 6مہینے قبل ہی ترنمول کانگریس چھوڑنے کا فیصلہ کیا تھا ۔میرے مختلف سیاسی جماعتوں کے لیڈروں سے اچھے تعلقات ہیں ۔مرکزی وزیر خزانہ ارون جیٹلی اور کیلاش وجے ورگی سے میرے گہرے تعلقات ہیں اور بات چیت بھی چل رہی ہے ۔کانگریس کے ادھیر رنجن چودھری اور سی پی ایم کے سیتارام یچوری سے بھی ہمارے تعلقات ہیں ۔شاردا چٹ فنڈ گھوٹالہ اور ناردا اسٹنگ آپریشن سے متعلق مکل رائے نے کہاکہ اس میں لیڈران ذاتی طور پر شامل ہیں ۔میں نے بھی سی بی آئی کی جانچ کا سامنا کیا ہے اور میں تعاون بھی کررہا ہوں ۔ایک بار پھر پارتھو چٹرجی کی سخت تنقید کرتے ہوئے کہاکہ ’’وہ ابھی بچہ ہیں انہیں تاریخ کا علم نہیں ہے ‘‘۔مکل رائے نے گزشتہ مہینے ہوئی پارٹی ورکنگ کمیٹی کی رکنیت سے استعفیٰ دینے کا ذکرکرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ درگا پوجا کے بعد راجیہ سبھا کی رکنیت سے مستعفی ہوجائیں گے اور پارٹی کی بنیادی ممبر شپ سے استعفیٰ دیدوں گا۔اس اعلان کے فوری بعد ترنمول کانگریس نے انہیں پارٹی مخالف سرگرمیوں میں شامل ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے 6برسوں کیلئے پارٹی سے معطل کردیا تھا ۔ترنمو ل کانگریس نے اب پھر بی جے پی سے قربت بڑھانے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ ان پر کافی دنوں سے نظر رکھا جارہا تھا۔راجیہ سبھا کی رکنیت سے استعفیٰ دینے کے بعد مغربی بنگال کے سیاسی حلقوں میں یہ بحث تیز ہوگئی ہے کہ مکل رائے بی جے پی میں شامل ہوں گے یا پھر اپنی نئی سیاسی جماعت بناکر این ڈی اے کا حصہ بنیں گے ۔حال ہی میں مکل رائے نے کہا تھا کہ میں اس وقت یہ کہنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں کہ میں بی جے پی میں شمولیت اختیار کروں گا یا پھر نہیں ۔اس کا جواب وقت ہی دے گا۔ برائے مہربانی انتظار کریں ۔مکل رائے کے حامیوں کا کہنا ہے کہ آسام میں ہیمانت بسواس شرما نے جس طریقہ سے حکمراں کانگریس جماعت کو چھوڑ کر بی جے پی میں شمولیت اختیار کی اور بی جے پی کو انتخاب میں کامیابی دلائی اسی طرح مکل رائے اگلے اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کو بنگال میں کامیابی دلائیں گے ۔تاہم مکل مخالفین کا کہنا ہے کہ ممتابنرجی کے بغیر ان کے پاس کوئی طاقت نہیں ہے ۔ترنمول کانگریس کے سکریٹری جنرل پارتھو چٹرجی نے کہا کہ مکل رائے کا سیاسی کیرئیر اب ختم ہونے کے قریب ہے وہ جلد ہی بی جے پی میں بھی کنارہ لگادےئے جائیں گے ۔



Like us to get latest Updates