بی ایم ٹی سی کی ایک بس50کاروں اور200دوپہیہ سواریوں کی ضرورت پوری کرسکتی ہے

بی ایم ٹی سی کی ایک بس50کاروں اور200دوپہیہ سواریوں کی ضرورت پوری کرسکتی ہے

بنگلو ر:11؍اکتوبر(ف ن) شہر میں بڑھتی ہوئی خانگی سواریوں کی تعداد اور ٹرافک کے اژدہام نے ہر کسی کو پریشان کر رکھا ہے۔ شہر کے راستوں پر ہر دن ہزاروں نئی سواریاں اتر رہی ہیں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ اس کی بنیادی وجہ عوامی نظام نقل و حمل کی ناکامی ہے۔ نما میٹرو کے تکمیل میں تاخیر اور جہاں میٹرو کی سہولیات ہیں وہاں سے مسافرین کو اپنی اصل منزل تک پہنچنے میں دشواریوں کے علاوہ بی ایم ٹی سی بسوں کی محدود تعداد اور اس کے قیمتوں کی زیادتی کو اس کے لئے بنیادی طور پر ذمہ دار ہیں۔اسی لئے بی ایم ٹی سی بسوں کی تعداد میں اضافہ اور ٹکٹ کی قیمتوں میں کمی کرنے کے مطالبہ کے ساتھ ’’سٹیزنس فار بنگلورو‘‘ نامی ادارہ پچھلے کئی ماہ سے شہر میں ایک منظم تحریک چلا رہا ہے۔’’بس بھاگیہ بیکو‘‘ کے عنوان سے جاری اس تحریک کے ذریعہ اس بات کی طرف حکومت کی توجہ مبذول کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ’’ شہر میں ایک کروڑ سے بھی زیادہ لوگوں کی آبادی ہے، لیکن بی ایم ٹی سی بسوں کی تعداد پچھلے دس سالوں سے صرف چھ ہزار پر ہی رکی ہوئی ہے۔اسی وجہ سے لوگ اپنی ذاتی سواریوں سے چمٹے ہوئے ہیں اور شہر میں آلودگی بڑھتی جا رہی ہے‘‘۔اس احتجاجی تحریک کا ایک مقصد عوام کو اپنی ذاتی سواریوں پر انحصار کو چھوڑ کر سرکاری بسوں کے استعمال کی ترغیب دلانا بھی تھا۔ادارہ کی طرف سے جگہ جگہ مظاہرے کئے جاتے ہیں جن میں سرکاری بسوں کی اہمیت و ضرورت سے متعلق نعرے بلند کئے جاتے ہیں اور عوام میں دستی پرچے بھی تقسیم ہوتے ہیں، ان دستی پرچوں میں ایک موبائل نمبر بھی دیا گیا ہے اور عوام سے گذارش کی گئی ہے کہ اگر وہ اس تحریک کی حمایت کرتے ہیں تو اس نمبر پر ایک مس کال دیں۔ سٹیزنس فار بنگلورو کی ایک سرگرم رکن تارا کرشنامورتی نے بتایا کہ’’تحقیقات کے بعد ہمیں معلوم ہوا ہے کہ بنگلور میں اس وقت بی ایم ٹی سی کی طرف سے صرف 6؍ ہزار بسیں دوڑائی جا رہی ہیں۔دو پہیہ اور چار پہیہ والی سواریاں اس وقت شہر میں بہت زیادہ بڑھ گئی ہیں، ایک بس پچاس کاروں اور دوسو اسکوٹروں کی جگہ لے سکتی ہے،اس کی وجہ سے فضائی آلودگی اور ایندھن کا استحصال بھی کم ہوجاتا ہے، اگر شہر میں مناسب اور آسانی کے ساتھ دستیاب عوامی نقل و حمل کے ذرائع کا انتظام ہو جائے تو کوئی بھی ذاتی سواریوں کا استعمال نہیں کرے گا۔لیکن بی ایم ٹی سی نے پچھلے دس سالوں سے ایک بھی نئی بس کا اضافہ نہیں کیا ہے، بلکہ حیرت کی بات یہ ہے کہ کئی علاقوں کے درمیان دوڑنے والی بسوں کو منسوخ بھی کردیا گیا ہے۔بنگلور شہر کی کل آبادی1.2؍کروڑ ہے اور چھ ہزار بسیں ان کی ضرورت کے لئے بالکل ناکافی ہیں۔اس لئے ہمارا مطالبہ ہے کہ مزید سرکاری بسوں کا اضافہ کیا جائے اور صارفین کو ترغیب دلانے کے لئے ٹکٹ کی قیمتوں کو بھی کم کیا جائے‘‘۔تارا ہی کی طرح سی ایف بی کے ایک اور نمائندہ شری نواس کا بھی خیال ہے کہ ٹکٹوں کی زیادہ قیمتیں لوگوں کو بی ایم ٹی سی کے مقابلہ ،اپنی ذاتی سواریوں کے استعمال پر مجبور کرتی ہیں۔شری نواس نے بتا یا کہ ‘‘ہم نے ملک بھر میں بسوں کی ٹکٹ قیمت سے متعلق تفصیلی جائزہ لیا ہے اور تجزیہ کے بعد یہ بات واضح ہوئی ہے کہ بی ایم ٹی سی بسوں میں ٹکٹ کی قیمتیں ملک کے دوسرے کئی اہم شہروں کے مقابلہ میں بہت زیادہ ہیں، خصوصاً ممبئی، کولکوتہ، پونا اور چنئی وغیرہ شہروں میں بسوں پر سفر کی قیمتیں بنگلور کے مقابلہ بہت کم ہیں،بی ایم ٹی سی پورے ملک میں سب سے زیادہ مہنگی سرکاری بس سروس ہے۔بہت سے لوگ ایسے ہیں جو ماہانہ دس ہزار روپیوں سے بھی کم کماتے ہیں، ٹکٹ کی موجودہ قیمتیں ان کے لئے ناقابل حصول ہیں۔بسوں میں ٹکٹ کی قیمتوں کو گھٹانے کے ذریعہ بہت سارے لوگوں کو شہر میں سفر کرنے کے لئے بسوں کے انتخاب میں سہولت ہوگی اور اس طرح راستوں پر سواریوں کی تعداد میں بھی کمی واقع ہوگی اور اس طرح شہر کو زیادہ ہرا بھرا بنایا جا سکتا ہے۔ بی ایم ٹی سی محکمہ اور ریاستی وزیر کو چاہئے کہ اس جانب توجہ دیکر ٹکٹوں کی قیمتوں کو فوراً گھٹائیں تاکہ لوگ آسانی کے ساتھ سرکاری بسوں میں سفر کر سکیں‘‘۔سماجی کارکن پرکاش بیلیواڑی کی بیوی اور بی ایس این ایل ملازم چندریکا بیلیواڑی نے کہا کہ’’ بنگلور کو شہر گلستان قرار دیا جاتا ہے، یہ ہریالی سے بھرا ہوا شہر ہے،بنگلور شہر کی اس شہرت کی حفاظت کرنا ہر ایک شہری کی ذمہ داری ہے اور اس کے لئے سرکاری بسوں کا استعمال ضروری ہے۔میں خود بھی سرکاری بسوں میں سفر کو ترجیح دیتی ہوں اور میرے پاس ماہانہ پاس بھی موجود ہے لیکن، اس ماہانہ پاس کے لئے ایک ہزار روپیوں کی قیمت بہت زیادہ ہے، بہت سارے لوگوں کے لئے اتنی قیمت ادا کرنا مشکل ہوتا ہے، یہ ان کی آمدنی کے مقابلہ میں بھی بہت زیادہ ہوتا ہے، بس کی قیمتیں طے کرنے کے موقع پر عام عوام کی مالی صورت حال کو بھی ذہن میں رکھنا چاہئے‘‘۔اس تحریک کے ذریعہ منعقدہ ایک مظاہرہ کے دوران راستہ سے گزرتے ہوئے ایک ساٹھ سالہ مؤظف سرکاری ملازم جوریا نے، جو اس تحریک کے مقصد کو جان کر اس سے متاثر ہوئے تھے احتجاجی مظاہرہ میں خود بھی شریک ہوتے ہوئے، ذاتی سواریوں کے بجائے سرکاری بسوں کے استعمال سے متعلق اپنے خیالات کا اظہار کیا اور کہا کہ’’چونکہ فضائی آلودگی ہمارے شہر کو درپیش مسائل میں سے ایک سب سے بڑا مسئلہ ہے اور اس کی وجہ سے ہمارا شہر اپنی خوب صورتی بھی کھوتا جا رہا ہے، اس مسئلہ کے حل اور شہر کی خوب صورتی کی حفاظت کے لئے عوام کو چاہئے کہ سرکاری بسوں کے استعمال کے ذریعہ آگے قدم بڑھائیں لیکن اس سلسلہ میں حکومت کو بھی چاہئے کہ ٹکٹوں کی قیمتیں گھٹا کر عوام کو سہولت فراہم کرے۔‘‘



Like us to get latest Updates