سرسی سرکل کافلائی اوور یا موت کا پل 2.65؍کلومیٹر کے راستہ پر 46؍گڑھے موجودہیں

سرسی سرکل کافلائی اوور یا موت کا پل 2.65؍کلومیٹر کے راستہ پر 46؍گڑھے موجودہیں

بنگلو ر:11؍اکتوبر(ف ن) شہر کے بنیادی بلدی ڈھانچہ کی ابتر صورت حال کو دیکھتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ بروہت بنگلورو مہا نگرا پالیکے (بی بی ایم پی) بے شرم لوگوں کا ایک گروہ ہے۔شہر کے بلدی ادارہ کے اس رویہ نے لاکھوں لوگوں کی بد دعائیں اس کی جھولی میں ڈال دی ہیں اس لئے کہ وہ شہر کی فلاح و بہبود کے لئے کسی بھی مضبوط اور مناسب اقدام کے لئے بالکل تیار نہیں ہے، حالانکہ بنگلور شہر کے اکثر مکین اپنے محصولات پابندی کے ساتھ ادا کرتے رہے ہیں۔ ایک بہترین مثال شہر کے قلب میں واقع سرسی سرکل فلائی اوور ہے جس نے حال ہی میں دو عمر رسیدہ بزرگ شہریوں کی جان لے لی تھی۔یہ راستہ شہر کا ایک اہم ترین فلائی اوور ہے اس لئے کہ روزانہ ہزاروں لوگ اس کو استعمال کرتے ہیں۔اس وقت اس بالائی راستہ کی جو صورت حال ہے اس کو دیکھتے ہوئے یہ بات پورے وثوق کے ساتھ کہی جا سکتی ہے کہ مزید جانوں کا یہاں ضیاع ہونے والا ہے۔ بی بی ایم پی نے2013ء میں شہر کے اس 19؍سالہ قدیم ترین فلائی اوور کی مرمت کا کام شروع کیا تھا اور اس پر موجود انگلیوں کی شکل کے پھیلنے والے جوڑوں کو نکال کر جدید ماڈیولار جوڑ لگائے تھے، اس وقت بی بی ایم پی نے بتایا تھا کہ ماڈیولار جوڑدس سال تک محفوظ رہتے ہیں۔لیکن اس فلائی اوور کی موجودہ صورت حال بالکل الگ ہے، اگر آپ اس راستہ پر سے صرف بیس کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بھی گاڑی چلا رہے ہوتے ہیں اور آپ یہاں موجود گڑھوں پر نظر نہیں رکھے ہوئے ہیں تو آپ کی زندگی کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔اس فلائی اوور کے کل2.65؍کلو میٹر کے راستہ پر آپ کو پورے48؍بڑے بڑے گڑھے مل جائیں گے اور اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ یہاں پورے 48؍مقامات پر آپ کی زندگی کو کہیں بھی کوئی غلط موقع حاصل ہو سکتا ہے۔
ہمیشہ خطرہ:۔اس راستہ پر اکثر سفر کرنے والی شری ندھی اڈیگا نے اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ’’اگر آپ بالکل آہستہ روی سے بھی اس راستہ پر سے جا رہے ہوں تو آپ کے لئے ضروری ہوگا کہ اپنی آنکھیں پوری طرح کھلی رکھیں اور ہر چہار جانب آپ کی نظر رہے۔اس راستہ پر آپ کسی بھی وقت حادثہ کا شکار ہو کر زخمی ہو سکتے ہیں۔صبح کے اوقات میں جب کہ ٹریفک کا اژدھام بہت زیادہ ہوتا ہے اور یہ عمومی صورت حال ہوتی ہے، ایسے میں راستہ کے گڑھوں پر نظر رکھنا بہت مشکل ہوتا ہے۔رات کے اوقات کی کہانی کو بیان نہ کیا جانا ہی بہتر ہے، میں عموماً اپنے کام سے وا پس لوٹتے ہوئے رات کے گیارہ بجے کے آس پاس اس راستہ سے گزرتی ہوں، ہر دن میری واپسی ایک بھیانک خواب ہوتی ہے‘‘۔خود بی بی ایم پی کے ایک افسر نے بتایا کہ اس بالائی راستہ کی محفوظ مدت ختم ہو چکی ہے اور حکام کے لئے ضروری ہے کہ اس کی دوبارہ مکمل مرمت کے کام کو اختیار کریں۔انہوں نے کہا کہ ’’لیکن ہم اس بات کو نہیں سمجھتے کہ اس فلائی اوور پر کوئی موت بھی واقع ہو سکتی ہے، ہم نے اس پر جگہ جگہ مرمت کا کام انجام دیا ہے اور گڑھوں کی بھرتی کر دی گئی ہے ، اس وقت آپ جو کچھ بھی دیکھ رہے ہیں وہ فلائی اوور کے بالائی حصہ میں پیدا ہوئی خرابی ہے۔‘‘ 
شہر کا پہلا فلائی اوور:۔سرسی سرکل فلائی اوور کو شہر کا سب سے پہلا فلائی اوور کہا جاتا ہے اور اس کی رونمائی 1998ء میں ہوئی تھی۔نراسمہا راجا سرکل پر شروع ہو کر سرسی سرکل پر ختم ہونے والا 2.65 کلو میٹر کا یہ فلائی اوور شہر کا سب سے مصروف ترین راستہ بھی ہے ، اس لئے کہ یہ شہر کے جنوبی حصہ کو کئی اہم شہروں جیسے میسور اور تامل ناڈو وغیرہ سے جوڑتا ہے۔اس فلائی اوور کی تعمیر لارسن اور ٹبرو (ایل اینڈ ٹی) نے1998ء میں97؍کروڑ روپئے کی لاگت سے انجام دی تھی۔اس کے فوری بعد سے ہی اس فلائی اوور میں خرابیاں نظر آنے لگی تھیں خاص طور پر جب سے ایل اینڈ ٹی نے اس کے انتظام میں دلچسپی ختم کر دی تھی۔صرف 2008ء سے2010ء کے درمیان میں ہی بی بی ایم پی نے اس فلائی اوور کے انتظام کے لئے چار مرتبہ ٹینڈر طلب کئے تھے، لیکن کسی نے بھی ان میں دلچسپی کا اظہار نہیں کیا اور اس کے نتیجہ میں فلائی اوور کی مرمت کے کام کو سرد بستہ میں ڈال دیا گیا تھا۔



Like us to get latest Updates