1,390پرانی بی ایم ٹی سی بسیں شہر کے راستوں پر دوڑتی ہیں

1,390پرانی بی ایم ٹی سی بسیں شہر کے راستوں پر دوڑتی ہیں

بنگلو ر:11؍اکتوبر(ف ن) چلتی بسوں میں سے ٹائروں کے باہر نکل آنے سے لے کر ریاستی وزیر اعلیٰ کو ایک خستہ حال بس پر سوار ہو کر بارش سے متاثرہ علاقوں کا جائزہ لینے کے لئے اپنے دورے کو مختصر کر دینے تک ، حالیہ کچھ دنوں میں بی ایم ٹی سی تمام غلط وجوہات کی بنا کر اخبارات کی سرخیاں بناتی رہی ہے۔حالانکہ سرکاری ملکیت والی اس کارپوریشن نے مذکورہ واقعات کے لئے ذمہ دار پانچ سے زیادہ ملازمین کو معطل کر دیا ہے لیکن ابھی بھی وہ برسوں پرانی خستہ حال کئی سواریوں کو راستوں پر دوڑا رہی ہے۔ضابطوں کے مطابق یہ کوئی بھی بس8؍ لاکھ50؍ہزار کلو میٹر دوڑ مکمل کرلینے یا دس سال گزر جانے کے بعد ( جو بھی پہلے آجائے) ، اس بس کو خارج کردینا ضروری ہوتا ہے۔ واضح رہے کہ بنگلورو میٹرو پالیٹن ٹرانسپورٹ کارپوریشن ( بی ایم ٹی سی) کے پاس کل6.391؍بسیں موجود ہیں ، ان میں سے5,554؍بسیں بغیر اے سی کی ہیں جبکہ 837؍بسیں اے سی والی ہیں۔بی ایم ٹی سی کے ریکارڈس کے مطابق اس سال جولائی کے مہینہ تک کل1,390؍بسیں ایسی تھیں جو دس سال سے بھی پرانی ہیں، ان میں سے48؍بسیں اے سی والی اور1,342؍غیر اے سی کی ہیں۔اس وقت شہر کے راستوں پر جو بی ایم ٹی سی کی بسیں دوڑ رہی ہیں ان میں سے کم از کم 9؍ بسیں 14؍ سال سے بھی پرانی ہیں،جہاں 1,215؍بسیں متعینہ 8؍ لاکھ کلو میٹر سے زیادہ دوڑ چکی ہیں ، وہیں ان میں سے119؍بسیں ایسی ہیں جو دس لاکھ کلو میٹر سے زیادہ کا سفر کر چکی ہیں اور اس کے باوجود ابھی راستوں پر دوڑائی جا رہی ہیں۔ بی ایم ٹی سی کے اعلیٰ افسران کا کہنا ہے کہ وہ قدیم بسوں کو چلانے پر مجبور ہیں اس لئے کی کئی مختلف وجوہات کی بنا پر سال2015ء اور2016ء میں نئی بسیں دستہ میں شامل نہیں کی گئی تھیں۔انہوں نے بتایا کہ ہم نے نئی بسوں کی شمولیت کے کام کو مرحلہ وار انجام دینا شروع کر دیا ہے، طے شدہ1,950؍نئی بسوں میں سے اب تک 750؍بسیں شامل کر لی گئی ہیں۔جیسے جیسے نئی بسیں دستہ میں شامل ہوتی جاتی ہیں ہم اسی انداز سے مرحلہ وار پرانی بسوں کو نکالنے کا کام بھی انجام دیتے ہیں، اس سال کے اواخر تک تمام پرانی بسوں کو نکال دیا جائے گا۔ دوسری طرف کے ایس آر ٹی سی عملہ اور ملازمین کی انجمن کے جنرل سکریٹری اننت سبا راؤ کا کہنا ہے کہ بی ایم ٹی سی اپنے ملازمین کو بلی کا بکرا بنا رہی ہے، انہوں نے کہا کہ ’’بسوں کی صورت حال بد سے بد تر ہو گئی ہیں، لیکن بی ایم ٹی سی اپنی غلطیاں چھپانے کے لئے ملازمین کے خلاف اقدامات کر رہی ہے۔اس کے علاوہ میکانکی عملہ اور سواریوں کے نئے پرزوں کی شدید قلت ہے، خاص طور پر والوو بسوں کے لئے جس کے نتیجہ میں بسوں کے اسفار کی منسوخی بھی عمل میں آتی رہتی ہے‘‘۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پرانی بسوں کو نکالنے میں تاخیر کی وجہ سے بار بار راستوں پر بسوں کے خراب ہونے، شہر کی فضاء میں آلودگی کے بڑھنے اور بی ایم ٹی سی کے اخراجات میں شدید اضافہ وغیرہ نتائج پیدا ہوتے ہیں۔حال ہی میں سی اے جی رپورٹ نے بھی اس بات کو واضح کیا تھا کہ پرانی اور خستہ حال بسوں کے دوڑانے کے نتیجہ میں کارپوریشن کے انتظامی اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔مثال کے طور پر سال 2011-12ء میں پرزوں کی خریدی کے لئے جو32؍کروڑ15؍لاکھ روپئے خرچ ہوئے تھے اس کی مقدار سال2015ء میں بڑھ کر64؍ کروڑ 20؍ لاکھ کو پہنچ گئی تھی، اسی طرح روغنیات کے لئے سال 2011-12ء میں 8؍ کروڑ 63؍لاکھ روپئے خرچ ہوئے تھے وہی سال2015-16ء میں 13؍ کروڑ9؍لاکھ ہو گئے، اسی طرح سواریوں کی مرمت کے لئے سال 2011-12ء میں13؍ کروڑ31؍لاکھ روپئے خرچ ہوئے تھے جبکہ وہی خرچ سال 2015-16ء میں18؍کروڑ 22؍لاکھ ہو گیا، سی اے جی کی رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سال2011ء سے 2016ء کے درمیان گاڑیوں کی خرابی کی وجہ سے کل153.88؍کلو میٹر کے سفر کو منسوخ کرنا پڑا تھا۔ رضاکاروں کا کہنا ہے کہ عوامی نظام نقل و حمل کو مضبوط بنانا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے، ایک غیر سرکاری تنظیم سٹیزن فار بنگلورو کے بانی سرینواس الاویلی نے کہا کہ بی ایم ٹی سی کو چاہئے کہ بسوں کے تحفظ کو یقینی بنائے اور انہیں آرامدہ بنانے کی بھی فکر کرے تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ صارفین کو انہیں استعمال کرنے کے لئے راغب کر سکے، حکومت کو چاہئے کہ عوامی نظام نقل و حمل کو اہمیت دے اور بی ایم ٹی سی کے دستہ کو وسعت دینے کے لئے زیادہ سے زیادہ مالی تعاون فراہم کرے۔



Like us to get latest Updates