سپریم کورٹ کے حتمی فیصلہ تک بلہلی کی ایک انچ زمین بھی الاٹ نہیں کی جائے گی چارریاستی وزراء کے اجلاس میں متفقہ فیصلہ۔ 167؍ایکڑ قیمتی زمین وقف بورڈ کو ملنے کی امید

سپریم کورٹ کے حتمی فیصلہ تک بلہلی کی ایک انچ زمین بھی الاٹ نہیں کی جائے گی چارریاستی وزراء کے اجلاس میں متفقہ فیصلہ۔ 167؍ایکڑ قیمتی زمین وقف بورڈ کو ملنے کی امید

بنگلورو۔11؍اکتوبر (چیف رپورٹر) بلہلی وقف املاک وقف بورڈ میں شامل کرنے سے متعلق آج ایک اچھی پہل ہوئی ہے۔ ریاستی وزیر برائے امور اقلیت واوقاف تنویر سیٹھ نے آج نمائندہ سالار کو بتایا کہ اس قیمتی املاک کو وقف بورڈ میں شامل کرنے سے متعلق یہاں ودھان سودھا میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں وزیر مالگزاری کاگوڑ تمپا، وزیر قانون وامور پارلیمان ٹی بی جئے چندرا ، وزیر شہری ترقیات وحج آر۔ روشن بیگ ، وزیرخوراک وشہری رسدات یوٹی قادر کے علاوہ خود وہ اور بنگلور ضلع کمشنر کے دفتر سے اے ڈی سی ریجنل کمشنر، روینیو سکریٹری وقف بورڈ کے ا فسران شریک رہے۔ اس وقت املاک کی کل 602 ایکڑ قیمتی زمین میں سے سروے نمبر55؍میں 167ایکڑ زمین پر عارضی ڈھانچے وغیرہ ہٹاکر بالکل خالی کروائی گئی ہے۔ باقی زمین پر عالیشان مالس اور تجارتی مراکز تعمیر ہوچکے ہیں۔ ان میں سے اکثر قبضے ریاستی حکومت کے دفاتر وغیرہ کے ہیں۔ اب 167؍ایکڑ زمین پر بھی کہیں قبضے ہو نہ ہوجائے اس لئے اس املاک سے متعلق سپریم کورٹ میں زیر سماعت مقدمہ کے حتمی فیصلہ تک ایک انچ زمین بھی کسی کو الاٹ نہ کرنے مذکورہ چار محکموں کے سربراہوں نے آج کے اجلاس میں فیصلہ کیا ہے۔ اس کا باقاعدہ سرکیولر بھی بہت جلد جاری کیا جائے گا۔ سپریم کورٹ میں پچھلے ماہ 22؍ستمبر کو سماعت ہوئی تھی۔ اگلی سماعت 24؍اکتوبر کو مقرر ہے۔ وزیر موصوف نے بتایا کہ اگلی سماعت سے قبل آج کے اجلاس میں ہوئی کارروائی اور فیصلہ کی تحریر مذکورہ چار وزراء کے دستخط سمیت سپریم کورٹ میں داخل کی جائے گی جس سے اس معاملہ میں وقف بورڈ کے دعوے کو طاقت ملے گی۔ آج کے اس اجلاس سے یہ امید پیدا ہوئی ہے کہ کم از کم 167؍ایکڑ خالی زمین وقف بورڈ کو مل جائے گی۔ دراصل بلہلی کی 602 ایکڑ قیمتی زمین حضرت مانک شاہ اور سوتے شاہ درگاہ کی وقف ملکیت ہے جسے حضرت ٹیپوسلطان شہیدؒ نے اپنے دور میں فراہم کی تھی۔ 1755 سے اس کے باقاعدہ دستاویزات بھی بورڈ کے پاس موجود ہیں۔ریاستی اسٹیٹ وقف بورڈ 1961 میں قائم ہواتھا اس کے بعد 1972 میں یہ املاک مزراعی ڈپارٹمنٹ سے علاحدہ کرکے بورڈ میں شامل کرنے کے بعد اس زمین کو حاصل کرنے مسلسل جدوجہد جاری ہے۔ پہلے یہ معاملہ سیشن کورٹ اور ہائی کورٹ میں زیر سماعت تھا۔ یہاں وقف بورڈ کے خلاف فیصلہ ہوا اس کے بعد اب معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ مذکورہ درگاہ کی کمیٹی محمد عبیداللہ شریف کی صدارت میں اس ملکیت کو واپس حاصل کرنے مسلسل جدوجہد کررہی ہے۔ریاست کے تمام مسلمانوں کی یہ دلی تمنا ہے کہ یہ وقف املاک وپس وقف بورڈ کو مل جائے جس کی آج قیمت کروڑوں روپئے میں ہے۔ 



Like us to get latest Updates