بنگارپیٹ میں موسلادھار بارش،کئی تالابوں کے پشتے ٹوٹنے سے کئی مکان زیر آب 25؍سے زائد مکانوں کو نقصان۔ بے گھر افراد کو رہائشی سہولت فراہم کرنے رکن اسمبلی کی یقین دہانی

بنگارپیٹ میں موسلادھار بارش،کئی تالابوں کے پشتے ٹوٹنے سے کئی مکان زیر آب 25؍سے زائد مکانوں کو نقصان۔ بے گھر افراد کو رہائشی سہولت فراہم کرنے رکن اسمبلی کی یقین دہانی

بنگارپیٹ۔10؍اکتوبر(محمد احسان، نامہ نگار) ریاست کے مختلف علاقوں میں گزشتہ چند ماہ سے ہورہی موسلادھار بارش کا اثر اب یہاں بھی پڑنے لگاہے۔ پیر کی رات طوفانی ہواؤں کے ساتھ ہوئی موسلادھار بارش سے عام زندگی مفلوج ہوگئی اور30سے زائد مکانوں کی دیواریں گرنے کے علاوہ کئی نشیبی علاقوں کے مکانو ں میں پانی گھس جانے سے یہاں مقیم افراد کو رات بھر جاگ کر گزارنا پڑا اور کئی درخت زمین بوس ہوگئے۔ 34سال کے بعد اس طرح کی تباہی مچانے والی طوفانی بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔1983کے دوران اسی طرح کی ہوئی موسلادھار بارش کی وجہ سے کئی تالابوں کے پشتے ٹوٹ جانے سے کئی مکانوں میں پانی داخل ہوچکاتھا، جس سے کئی مکانوں کو کافی نقصان پہنچاتھا۔ 34برس بعد دوبارہ اسی طرح کی بارش نے یہاں کے مکینوں کو ایک طرف راحت بخشی ہے تو دوسری جانب نشیبی علاقوں میں مقیم غریب افراد کو کافی پریشان کررکھاہے۔ پیر کی دوپہر ہی سے گرج اور چمک کے ساتھ موسلادھار بارش جو شروع ہوئی وہ مسلسل رات 11بجے تک ہوتی رہی۔ جس کی وجہ سے یہاں کے اطراف واکناف علاقوں کے تقریباً15؍سے زائد تالابوں کے پشتے ٹوٹ جانے سے پانی یہاں کے کئی علاقوں میں گھس گیا۔ سی رحیم نگر،قادر لے آؤٹ، ہونسہلی سمیت دیگر کئی نشیبی علاقوں کے 500سے زائد مکانوں میں پانی داخل ہوچکاہے۔جس کے نتیجے میں 25؍سے زائد مکانوں کی دیواریں زمین بوس ہوچکی ہیں۔ قادر لے آؤٹ میں موجود مکانوں کے علاوہ مسجد انواریہ میں بھی پانی گھس جانے سے یہاں مقیم افراد کو کافی پریشانی اٹھانی پڑی۔ اس علاقے کے کئی مکانوں کی دیواریں بھی گرچکی ہیں اور یہ علاقہ زیر آب ہوچکاہے۔ اطلاع پاکر مقامی رکن اسمبلی ایس این نارائن سوامی، کے جی ایف ،اربن ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے سابق چیرمین وسینئر کانگریس لیڈر سمش الدین بابو اور مقامی کونسلر نے فوری یہاں پہنچ کر راحت کاری کا کام کرتے ہوئے متاثرین کو فوری شمس شادی محل میں منتقل کردیا، رکن اسمبلی نے بودی کو ٹے روڈ کے ریلوے برڈج کا معائنہ کیا، جہاں بارش کی وجہ سے سڑک زیرآب ہوچکی ہے۔ جس کی وجہ سے کئی گھنٹوں تک ٹریفک جام رہا جے سی بی کی مدد سے سڑکوں پر گرے درختوں کو ہٹاکر راستہ صاف کیا۔ مقامی رکن اسمبلی نے ایک کارکن کی طرح جے سی بی میں بیٹھ کر سڑکوں پر پڑے درختوں کو ہٹانے میں مدد کی۔ رات دیر گئے تک راحت کاری کاموں میں لگے رہے۔ آج صبح دوبارہ مقامی رکن اسمبلی مقامی کونسلر اور شمس الدین بابو نے قادر لے آؤٹ کا معائنہ کیا۔ اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے رکن اسمبلی نے بتایا کہ 34سال بعد اسی طرح کی تباہی والی بارش یہاں ہوئی ہے۔ جس سے خوش بھی محسوس ہورہی ہے اور رنج بھی خوشی اس بات کی کہ تعلقہ میں گزشتہ کئی برسوں سے پینے کے پانی کی بڑی قلت کاسامناکرنا پڑرہاتھا۔ اب بارش کی وجہ سے تمام تالاب زیر آب ہوچکے ہیں اور پینے کے پانی کا مسئلہ بھی۔ بہت حد تک دور ہوگا۔ غم اس بات کا کئی غریب افراد کے مکان تباہ ہوچکے ہیں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ وہ حکومت ن سے ان بے گھر افراد کو فوری رہائشی سہولتیں فراہم کرنے کے لئے ہر ممکنہ کوشش کریں گے اور جن مکانوں کو نقصان پہنچا ہے ان کی نشاندہی کرکے فوری معاوضہ جاری کرنے کے لئے مقامی بلدیہ کو حکم دیں گے۔ بارش سے متاثرہ افراد کے لئے مبارک ہوٹل کے مالک سید افسر نے کھانے کا بھرپور انتظام کررکھاہے۔بنگارپیٹ میں کل رات30.6 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی ہے۔



Like us to get latest Updates