’’کرناٹکا اوپن یونیورسٹی بچاؤ تحریک‘‘ اے بی وی پی کی جانب سے بنگلور چلو ریلی

’’کرناٹکا اوپن یونیورسٹی بچاؤ تحریک‘‘ اے بی وی پی کی جانب سے بنگلور چلو ریلی

میسور 10 اکتوبر ( نامہ نگار )گزشتہ چند ماہ سے میسور میں واقع کرناٹکا اوپن یونیورسٹی تنازعہ کا شکار بنی ہوئی ہے اور بند ہونے کے دہانے پر ہے ۔ اور دوسری جانب طلباء کی انجمن اکھیل بھارتیہ ودیارتی پریشت نے اس کرناٹکا اوپن یونیورسٹی بچاء کی تحریک کا آغاز کیا ہے۔ اور اس تحریک کو آگے بڑھاتے ہوئے بنگلور چلو ریالی نکال کر احتجاج کررہے ہیں۔ کل بروز پیر کے یس او یو کے سابق وائس چانسلرپروفیسر رامے گوڈا نے ہری جھنڈی دکھاکر بنگلور چلو نامی اس احتجاجی ریالی کا افتتاح کیا۔ اکھلا بھارتیہ ودھیارتی پریشت کے احتجاجی کارکن مورخہ13اکتوبر کو بنگلور میں واقع فریڈم پارک پہنچیں گے اور احتجاجی دھرنا دیں گے۔ اور یہ ریالی سری رنگا پٹن، منڈیا، مدور ، چن پٹن، رام نگرم، بڈدی سے ہوتے ہوئے بنگلور پہنچے گی۔ کل بروز پیر مختلف انجمنون کے طلباء و طالبات نے میسور کے راما سوامی سرکل پہنچ کر ریاستی حکومت اور ریاستی وزیر برائے اعلی تعلیم بسوا راج رائے ریڈی کے خلاف نعرے لگائے۔ احتجاجی مظاہرین نے الزام لگایا ہے کہ ریاستی حکومت کے یس او کو بند کردینے کا فیصلہ کیا تاکہ اس یونیورسٹی میں دستیاب فنڈس کو لوٹ لیا جائے۔ ریاستی حکومت یونیورسٹی گرانٹ کمیشن سے منظوری لینے کے لئے کوئی کوشش نہیں کی۔ یونیورسٹی گرانٹ کمیشن کی جانب سے منظوری کی واپسی کے بعد ہزاروں طلباء و طالبات کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا ہے۔ اس لئے سدارامیا کی قیادت والی ریاستی حکومت اس یونیورسٹی کو بند کرنے کے منصوبے کو ترک کرکے یو جی سی سے منظوری حاصل کرنے کے لئے کوشش کرنا چاہئے ۔



Like us to get latest Updates