جدید دور کے مقابلے میں حجامہ کاقدیم طریقہ علاج

جدید دور کے مقابلے میں حجامہ کاقدیم طریقہ علاج

طب کی کتابوں میں حجامہ کا ذکر اس دور سے پایا جاتا ہے جب سے کہ تاریخ رقم کی گئی ہے، قدیم مصریوں سے لے کر آشوریوں، یونانیوں، عرب، قدامت پسندوں اور افریقی ، یہاں تک کہ یوروپی اور امریکی اصل کے لوگوں تک انسانوں نے ہمیشہ حجامہ کے طریقہ علاج کو استعمال کیا ہے۔ایسے بہت سارے طریقوں کے بر خلاف جو درمیانہ زمانہ میں آکر چلے گئے، حجامہ نے ہمیشہ وقت کے امتحان میں کامیابی حاصل کی ہے اور آج بھی دنیا بھر میں ترقی کرتا جا رہا ہے اور یہ صرف اس ایک چھوٹی سی وجہ سے ہے کہ یہ طریقہ علاج ہر حال میں مفید ثابت ہوتا ہے۔ تو یہ کس لئے ہے کہ حجامہ درد سے راحت دیتا ہے، ورم کو تحلیل کرتا ہے یعنی سوجن کو دور کرتا ہے، اعضاء کو دوبارہ کام کرنے کے قابل بناتا ہے اور صحت کو بحال کرتا ہے، اور یہ سب کچھ ان تمام حالات میں بھی ہوتا ہے جہاں روایتی طریقہ علاج ناکام ہو جاتا ہے؟
خون کو جذب کرنے کی جو تکنیک ہے وہ خون کے بہاؤ میں اضافہ کرتی ہے اور اس طرح بدن کے جس حصہ میں مرض پایا جاتا ہے اس میں سے درد اورجلن کو نکالنے میں مدد فراہم کرتی ہے۔یہ ایک طرح سے گہرائی کے ساتھ عضلات کی مالش کا کام کرتا ہے جس کے نتیجہ میں کئی طرح کے امراض کو دور کرنے کے سلسلہ میں معجزاتی طور پر عمل کرتا ہے، جیسے جوڑوں کا درد، عضلات کی سختی، سر درد، ذہنی دباؤ، چربی کا جماؤ، سانس کے مسائل اور بد ہضمی وغیرہ۔ اگر ہم ان بعض عام افعال کی طرف دیکھیں جو انسانی بدن میں درد پیدا کرتے ہیں اور انسانی اعضاء کو کام کرنے سے روکتے ہیں تو ہمیں یہ سمجھنے کے لئے زیادہ محنت کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی کہ بدن کے کسی بھی حصہ میں پیدا ہونے والی سوزش کا اس سے براہ راست کسی طرح کا تعلق ضرور ہوتا ہے۔
سوزش در اصل ایک فطری اور قدرتی نظام ہوتا ہے جس میں ہمارا جسم بدن کے ان حصوں تک اضافی خون کو روانہ کرتا ہے جہاں مرض پایا جاتا ہے تاکہ اس حصہ کو درست کیا جا سکے۔یہ عمل اس حصہ کو زیادہ مقدار میں غذائی اشیاء اور آکسیجن روانہ کرتا ہے اور اسے پرانے اور نقصان پہنچے ہوئے ٹیشوز کو ختم کرنے میں مدد کرتا ہے اور اس طرح صحت حاصل کرنے کے لئے نئے خلیات کی تیاری کا موقع فراہم کرتا ہے۔ کئی صورتیں اور بیماریاں جن سے ہم دو چار ہوتے ہیں ان سب کا تعلق کسی حد تک خود ہمارے جسم کے رد عمل کا نتیجہ ہوتے ہیں جہاں غیر ضروری سو زش پیدا ہو جاتی ہے۔ ان میں وہ تمام بیماریاں شامل ہیں جن کے انگریزی ناموں کے آخر میں ’’ITIS ‘‘ آتا ہے جیسے ارتھیٹس، ٹینڈونیٹس، گیاسٹریٹس، میننجٹیس اور اپینڈسیٹیس وغیرہ۔ان تمام صورتوں میں جو عمومی عنصر پایا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ ان حصوں میں بہت زیادہ اور غیر ضروری خون کا بہاؤ پایا جاتا ہے جس کے نتیجہ میں سوزش پیدا ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عام طور پر ڈاکٹروں کی طرف سے پابندی کے ساتھ اینٹی انفلامیٹری دوائیاں تجویز کی جاتی ہیں تاکہ اس سوزش یا انفلامیشن کی مقدار کو کم کیا جا سکے۔غیر ضروری سوزش کے نتیجہ میں زیادہ خون کا بہاؤ ہوتا ہے جس کی وجہ سے ٹیشوز متاثر ہوجاتے ہیں اور ان میں سوجن پیدا ہو کر عموماً دباؤ پیدا کرتے ہیں جو ٹیشوز اور نسوں میں تناؤ اور کھنچاؤ پیدا کرتے ہیں جس کے نتیجہ میں درد بھی زیادہ ہوتا ہے۔اگر اصل مسئلہ کے اسباب کو ختم نہیں کیا جاتا تو سوزش میں بھی اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ٹشوز کے اندر اس دباؤ اور سوجن اس درجہ تک زیادہ ہو سکتی ہے کہ یہ خود ہی ان ٹشوز کو نقصان پہنچا سکتے ہیں اور اس کے نتیجہ میں فضلات کو خارج کرنے اور صحت مند غذائی اشیاء کو مناسب مقدار میں بدن کے اس حصہ تک پہنچانے کے لئے مناسب مقدار میں خون کے بہاؤ میں رکاوٹ پیدا ہو جاتی ہے۔یہ صورت حال بدن کے اس حصہ میں کاربن ڈائی آکسائڈ پیدا کرسکتا ہے جو تیزابیت کا سبب بنتا ہے اور اس کے علاوہ زہریلے فضلات (جو تمام طرح کے فاضل مادوں اور نظام ہضم کے بعد خارج ہونے والے خراب مواد پر مشتمل ہوتے ہیں) بھی وہاں جمع کر دیتا ہے اور یہ سب چیزیں مسئلہ اور مذکورہ سوزش میں مزید اضافہ ہی کر تے ہیں۔
سوزش کو آسانی کے ساتھ اس طرح سمجھا جا سکتا ہے کہ یہ ایک ایسی صورت حال ہے جس میں جسم کے کسی مقام پر ضرورت سے بہت زیادہ خون پایا جاتا ہے جس کے نتیجہ میں دباؤ اور خون کا جماؤ پیدا ہوجاتا ہے اور اس کی وجہ سے عمومی غذائی اشیاء کے بہاؤ اور فضلات کی نکاسی کا کام متاثر ہوتا ہے اور اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ درد بھی پیدا ہوتا ہے اور بدن کے قدرتی طور پر صحت مند ہونے کے نظام پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ حجامہ کے طریقہ علاج میں سوزش، جمے ہوئے خون، خلیات کے فاضل مادے اور زہریلے مواد کو بدن کے بالکل اندرونی حصوں سے بھی اور جلد کے نچلے حصوں سے بھی نکال باہر کرنے کی ایک خصوصی صلاحیت پائی جاتی ہے۔
حجامہ (فصد کھلوانے) کے طریقہ کار کو استعمال کرتے ہوئے جلد کے اوپری حصوں پر سوئیوں کی ہلکی چبھن یا ہلکے سے کھرچنے کے ذریعہ ، جسم کے کسی بھی حصہ میں پیدا ہوئے اس دباؤ کو خارج کیا جا سکتا ہے اور یہ عام طور پر فوری راحت فراہم کرتا ہے اور تازہ خون کے بہاؤ کو پیدا کرتا ہے جس کے ذریعہ غذائی اشیاء اور آکسیجن کو اس حصہ میں پہنچاتا ہے اور اسطرح سے درد اور بے چینی پیدا کرنے والے عمل کو ختم کر دیتا ہے۔
چاند کی تاریخیں :۔ ہم اپنے قارئین کو ہر بار یاد دلاتے ہیں کہ ہر مہینہ چاند کی 19,17, اور 21 ؍ تاریخیں ، حجامہ کرانے کی سنت تاریخیں ہیں، اس مہینے یہ تاریخیں اتوار 8 ؍ اکتوبر ، منگل 10 ؍ اکتوبر اورجمعرات 12 ؍ اکتوبر ہیں۔ 
ان تاریخوں میں ایسا کیا ہے؟:۔ آپ جانتے ہیں کہ حجامہ کئی ہزار سال پرانہ طریقہ علاج ہے ، یہ نبی کریم ؐکے زمانے سے بہت پہلے سے چلا آرہا ہے ، مگر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے جسم مبارک پر آزمایا اور اپنی امت کو اس کی ترغیب دی ، تب کہیں جاکر اسے ’’ سنت ‘‘ کا درجہ حاصل ہوا ۔ 
حجامہ کی قسمیں :۔ حجامہ کی دو قسمیں ہیں ایک العلاج جو علاج کے لئے کیا جاتا ہے اور دوسرا الوقایہ یعنی پرہیز کے لئے ۔۔۔ اس کو حجامہ سنت کہتے ہیں، اس کے افضل دن چاند کی 19,17 ؍ اور 21 ؍ تاریخیں ہیں۔ صحت مند شخص بھی حجامہ کو حیات کے طور پر کرواسکتا ہے ۔ اگر ان دنوں میں حجامہ کروایا جائے تو 72 ؍ سے زیادہ بیماریوں سے بچا جاسکتا ہے ۔ ایک ضروری بات یہ ہے کہ سنت طریقہ علاج حجامہ میں جسم سے فاسد خون کو نکالا جاتاہے اور خون کو صاف کیا جاتا ہے ، لہٰذا اس میں انسان کو کمزوری محسوس نہیں ہوتی ۔ سنت کے حساب سے مہینے میں ایک بار حجامہ کروانے سے کوئی نقصان نہیں ہوتا بلکہ انسان صحت مندی اور تندرستی محسوس کرتا ہے ۔
ہیلتھ اینڈ حجامہ کلینک :۔ہماری کلینک میں لوگ حجامہ کروانے دور دور سے آتے ہیں، آخر یہاں ایسی کیا خاص بات ہے ۔۔۔؟؟ پہلے تو ہیلتھ اینڈ حجامہ کلینک کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ یہ ایک ایسا واحد کلینک ہے جہاں صرف حجامہ کے ذریعہ علاج ہوتا ہے ۔ جسے ہر میدان کے ماہرین کھوجتے ہیں، مثلاً ہڈیوں کے لئے ہڈیوں کے ڈاکٹرس یعنی آرتھوپیڈکس ، دل کی بیماری کے لئے کارڈیالوجی، خواتین کے امراض کے لئے او بی ، گائنوکولوجسٹ وغیرہ ۔۔۔ ایسے ہی حجامہ کے لوگ ہیلتھ اینڈ حجامہ کلینک کو خصوصی طور پر ڈھونڈھتے ہوئے آتے ہیں، ہمارے ڈاکٹروں کی ٹیم گزشتہ کئی سالوں سے صرف حجامہ کرتی آرہی ہے ، جس کا نتیجہ اللہ کے فضل و کرم سے اتنا عمدہ حاصل ہوا ہے کہ شاید ہی کوئی ایسا مرض ہو جس کا علاج ہیلتھ اینڈ حجامہ کلینک میں حجامہ کے ذریعہ نہ کیا جاتا ہو ۔ 
یہاں ہر مریض کے لئے خاص پردے کا انتظام ہوتا ہے ، تاکہ ایک مریض دوسرے مریض کا علاج ہوتے ہوئے نہ دیکھ سکے ۔ اس سے مریض اپنی بیماریوں کا علاج بغیر کسی جھجھک یا ہچکچاہٹ کے کرواسکتا ہے ۔ اگر سارے مریضوں کہ ایک ہی کمرے میں بغیر پردے کے علاج کیا جائے تو ہمارے معاشرے میں بہت سارے لوگ ایسے ہیں جن کو کم کپڑوں میں دوسروں کے سامنے شرمندگی محسوس ہوتی ہے ، اور وہ کھل کر اپنی بیماریوں کا اظہار نہیں کرپاتے۔ ہمارے کلینک میں مستورات کے لئے الگ سے لیڈیز وارڈ ہے اور ماہر لیڈی ڈاکٹرس موجود ہیں، اس لیڈیز وارڈ میں مردوں کا داخلہ بالکل ممنوع ہے ۔ خواتین کے ساتھ آئے ہوئے مردوں کو صرف تشخیصی کمرے یعنی کنسل ٹیشن روم تک ہی داخل ہونے کی اجازت ہے ۔ ٹریٹمنٹ روم میں وہ بالکل بھی داخل نہیں ہوسکتے ۔ ہر مریض کا باقاعدہ ریکارڈ بنایا جاتا ہے اور مکمل طور پر جائزے کے بعد علاج ہوتا ہے ۔ بیماری کی وجوہات، اس کی کیفیت اور بیماری کتنے وقت سے ہے ، یہ سب جاننے کے بعد ، اس کے لئے سیشن طئے کئے جاتے ہیں۔ علاج کے دوران ہر ایک مریض کا خاص خیال رکھا جاتاہے اور ایک وقت پر ایک ڈاکٹر صرف ایک ہی مریض کا علاج کرتا ہے۔اس طرح کسی ایک ڈاکٹر کی ایک مریض کو مکمل توجہ حاصل ہوتی ہے ۔ ہیلتھ اینڈ حجامہ کلینک میں سارے مریضوں کو ایک ہی کمرے میں بٹھا کر سب کے سامنے علاج نہیں کیا جاتا ہے بلکہ یہاں ایک ایک مریض کو ایک ایک ڈاکٹر کی مکمل اور بھرپور ملتی ہے جس سے مریض کو انتہائی اطمینان محسوس ہوتا ہے ۔ اسی وجہ سے دوسرے کلینکس کے مقابلے میں یہاں زیادہ وقت لگتا ہے مگر علاج تسلی اور تشفی بخش ضرور ہوتا ہے ۔ 
ہمارے کلینک پر ایک مریض پر استعمال ہونے والے کپس ، گلاؤز اور بلیڈ دوسرے مریضوں پر استعمال نہیں کئے جاتے ، کہ کہیں انفیکشن یا کسی اور کی بیماری کسی دوسرے مریض کو پھیلنے کی گنجائش بالکل نہ رہے ۔ آخر میں سب سے ضروری اور خاص بات یہ ہے کہ کوشش ہماری ہوتی ہے مگر شفاء صرف اور صرف اللہ رب العزت کے ہاتھوں میں ہے ۔ اللہ پاک جسے چاہے چن لیتا ہے اور ان کے ذریعہ شفاء دیتا ہے۔ اللہ ہم سب کو شفائے کلی ، شفائے کاملہ ، عاجلہ اور شفائے مستمرہ نصیب فرمائے ۔ آمین ۔ (جاری ہے)
Dr. Syed Sirajuddin
Health and Hijama Clinic ,Near Banaswadi Fire Station 
OMBR Layout Main Road, Bangalore- 43
Contact : 080-41221499/9620473786



Like us to get latest Updates