کششِ ثقل کی لہریں ناپنے کا مشن خلائی سفر پر روانہ

کششِ ثقل کی لہریں ناپنے کا مشن خلائی سفر پر روانہ

یورپ نے لیزا پاتھ فائنڈر نامی ایک نیا مصنوعی سیارہ خلا میں چھوڑا ہے جو زمین سے لاکھوں کلومیٹر دور کائناتی فزکس کے پیچیدہ تجربات کرے گا۔یہ مصنوعی سیارہ ان ٹیکنالوجیز کا تجربہ کرے گا جو کششِ ثقل کی لہروں کو دریافت کرنے کے لیے درکار ہوں گی۔ یہ لہریں کائنات میں عظیم واقعات کے بعد زمان و مکان کے سکڑاؤ کے باعث وجود میں آتی ہیں۔اس ٹیکنالوجی کی مدد سے بلیک ہولز کے آپس میں انضمام کا سراغ لگانا آسان ہو جائے گا۔ یہ انضمام کہکشاؤں کی نشو و نما کا پتہ دیتا ہے۔پاتھ فائنڈر کو فرینچ گیانا سے ایک ویگا راکٹ کے ذریعے مدار میں بھیجا گیا۔ یہ مصنوعی سیارہ زمین سے تقریباً 15 لاکھ کلومیٹر دور سورج کی سمت میں جائے گا۔توقع کی جا رہی ہے کہ یوروپین سپیس ایجنسی (ایسا) کا یہ مشن ایک برس تک کام کرتا رہے گا۔پاتھ فائنڈر میں صرف ایک ہی آلہ نصب ہے جو سونے اور پلاٹینیم سے بنے دو چھوٹے ٹکڑوں کے درمیان 38 سینٹی میٹر کے فاصلے پر نظر رکھے گا۔ان ٹکڑوں کو خلائی جہاز کے اندر گرنے دیا جائے گا اور ایک لیزر سسٹم کی مدد سے ان کی حرکت کا باریکی سے مشاہدہ کیا جائے گا۔ یہ سسٹم چند پیکو میٹر تک کا فاصلہ ناپنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ فاصلہ ایک ایٹم کے قطر سے کم ہے۔یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی جہاز لندن اور نیویارک کے درمیان سیدھی لکیر میں سفر کرے اور اس دوران اس جہاز کے اس لکیر سے بال برابر انحراف کو بھی ناپ لیا جائے۔برطانیہ کی گلاسگو یونیورسٹی کے ڈاکٹر ہیری وارڈ کہتے ہیں کہ ہم نے یہ لیزر نظام گلاسگو میں تیار کیا ہے جس کی مدد سے ان ٹکڑوں کے درمیان روشنی منعکس کی جائے گی۔’اس کے بعد ہم لیزر کی شعاعوں کو آپس میں ملا کر ان کے مدھم ہونے یا زیادہ روشن ہونے کا پتہ چلائیں گے، جس سے ٹکڑوں کی حرکت ناپی جائے گی۔‘ماہرین کے مطابق زمین پر اس طرح کے تجربات پہلے بھی کیے جا چکے ہیں لیکن خلا میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا تجربہ ہے۔



Like us to get latest Updates